میکسیکو سٹی: میکسیکو کے خودمختار قومی انتخابی ادارے آئی این ای کی سربراہ گوادالوپ تادی نے بدعنوانی اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق الزامات کے دوران استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق صدر کلاڈیا شین بام نے پیر کو کہا کہ وہ تادی کے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے کی حمایت کرتی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب میکسیکو کا سپیریئر آڈٹ آفس انتخابی ادارے کے بعض معاہدوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ان میں ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ اور سرکاری رقوم کی منتقلی سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ مقامی میڈیا میں تادی پر ایک ایسے ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کے الزامات بھی سامنے آئے جس کے ساتھ ان کے ذاتی تعلق کی بات کی گئی ہے۔ یہ تمام نکات الزامات اور زیرِ تفتیش معاملات ہیں، ثابت شدہ عدالتی نتائج نہیں۔
صدر شین بام نے اپنی روزانہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مفادات کے ٹکراؤ کا سایہ برقرار نہیں رہنا چاہیے اور ان کے خیال میں عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ درست ہے۔ تاہم انہوں نے اس پیش رفت کو کسی بڑے سیاسی بحران کی علامت قرار دینے سے گریز کیا۔
آئی این ای میکسیکو میں انتخابات کے انتظام اور نگرانی کا مرکزی خودمختار ادارہ ہے۔ اس کی قیادت میں تبدیلی ایسے وقت ہو رہی ہے جب ملک 2027 کے وسط مدتی انتخابات کی تیاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی پس منظر میں انتخابی ادارے کی ساکھ، معاہدوں کی شفافیت اور نئی قیادت کے انتخاب کا عمل سیاسی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
رواں سال میکسیکو کے قانون ساز صدر شین بام کی وسیع انتخابی اصلاحات کی کوشش کو مسترد کر چکے ہیں، تاہم بعد میں محدود دائرے کی بعض تبدیلیوں کی حمایت کی گئی۔ اس لیے آئی این ای کی قیادت کا معاملہ صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کے انتخابی نظام اور ادارہ جاتی خودمختاری پر جاری بحث سے بھی جڑا ہوا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تادی کا استعفیٰ شین بام کی دو سالہ صدارت کے دوران بدعنوانی کے الزامات سے منسلک سب سے نمایاں اعلیٰ سطحی رخصتیوں میں شمار ہوگا۔ تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر کسی فوجداری ذمہ داری یا جرم کے حتمی تعین کی اطلاع نہیں دی گئی، اس لیے الزامات کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
