عمان: اردن کی سکیورٹی فورسز نے جنوبی صوبہ کرک میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کے سلسلے میں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اردنی حکام کے مطابق تینوں افراد ایک متروک مکان میں چھپے ہوئے تھے اور پیر کی صبح سکیورٹی فورسز کے چھاپے کے دوران انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے فائرنگ کی۔
پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق جوابی کارروائی کے بعد تینوں مشتبہ افراد زخمی حالت میں حراست میں لے لیے گئے۔ ایک مشتبہ شخص کی حالت تشویشناک بتائی گئی جبکہ دیگر دو کی حالت مستحکم تھی۔ حکام نے کہا کہ کارروائی میں سکیورٹی اہلکاروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور جائے پناہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
یہ گرفتاریاں جمعہ کو کرک گورنریٹ کے گاؤں حمود میں سینٹ جارج یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے احاطے پر ہونے والے حملے کے بعد کی گئی ہیں۔ مسلح افراد نے جنازے کے جلوس کے دوران فائرنگ کی تھی۔ مختلف ابتدائی رپورٹس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بدلتی رہی، جبکہ بعد کی اردنی اور بین الاقوامی رپورٹس میں نو افراد کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا۔
اردن کے وزیر داخلہ مازن الفرايہ نے کہا کہ گرفتار افراد اردنی شہری ہیں۔ ان کے مطابق اب تک کسی بیرونی فریق سے رابطے یا تعاون کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔ حکام نے حملہ آوروں کو انتہا پسند قرار دیا ہے، تاہم کسی مخصوص تنظیم سے ان کی وابستگی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی اور کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
شاہ عبداللہ دوم نے حملے کے بعد سکیورٹی اداروں کو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی اور زخمیوں سے بھی ملاقات کی۔ حکومت نے متاثرین کے سوگ میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا، جبکہ چرچ کے قریب بڑی تعداد میں لوگوں نے مقتولین کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
گرفتاری کا مطلب ملزمان کا جرم عدالتی طور پر ثابت ہونا نہیں ہے۔ اردنی حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری رہیں گی اور گرفتار افراد کو قانونی کارروائی کے لیے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ حملے کی منصوبہ بندی، ممکنہ معاونین اور محرکات سے متعلق حتمی نتائج تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

