واشنگٹن: امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) نے ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد میں مسلسل رکاوٹ اور عالمی ذخائر میں تیز کمی کے پیش نظر 2026 اور آئندہ مدت کے لیے خام تیل کی قیمتوں کے تخمینے بڑھا دیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ادارے نے اپنی تازہ شارٹ ٹرم انرجی آؤٹ لک میں کہا کہ عالمی مارکیٹ اس سال نمایاں مقدار میں ذخیرہ شدہ تیل استعمال کر چکی ہے۔
EIA کے مطابق 2026 میں اب تک عالمی تیل ذخائر تقریباً 40 کروڑ بیرل کم ہوئے ہیں اور سال کے باقی حصے میں بھی کمی جاری رہنے کا امکان ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کی پیداوار اور برآمدات کا ایک قابل ذکر حصہ معمول کی سطح سے نیچے رہ سکتا ہے۔ ادارے نے برینٹ خام تیل کی 2026 کی اوسط اسپاٹ قیمت تقریباً 91 ڈالر فی بیرل رہنے کا اندازہ دیا، جو اس کے سابق تخمینے سے قریب پانچ فیصد زیادہ ہے۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے لیے اوسط قیمت کا تخمینہ 84.65 ڈالر فی بیرل بتایا گیا ہے۔ یہ پیش گوئیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ، آبنائے ہرمز سے محدود ترسیل اور خطے کے توانائی ڈھانچے پر حملوں نے عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ 9 ستمبر کو تازہ بحری کشیدگی کے دوران برینٹ خام تیل ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا۔
EIA کے اندازے کے مطابق اگست میں مشرق وسطیٰ کی بند یا معطل تیل پیداوار تقریباً 67 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچی۔ ادارہ چوتھی سہ ماہی میں اوسط بند پیداوار تقریباً 57 لاکھ بیرل یومیہ رہنے کا امکان ظاہر کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیداوار اور برآمدات کا مکمل طور پر معمول پر آنا 2027 کی دوسری سہ ماہی سے پہلے مشکل ہو سکتا ہے۔
ادارہ توقع کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کچھ اضافی ترسیل اور جہاز سے جہاز منتقلی جیسے طریقوں کے ذریعے بہاؤ میں جزوی بہتری آ سکتی ہے، لیکن جنگی حالات میں ان راستوں کی پائیداری یقینی نہیں۔ اس لیے قیمتوں اور ذخائر سے متعلق تخمینوں میں غیر معمولی جغرافیائی سیاسی خطرہ شامل ہے۔
یہ اعداد EIA کی پیش گوئیاں ہیں، حتمی قیمتیں نہیں۔ جنگ کی شدت، بحری راستوں کی دستیابی، اوپیک پلس کی پیداوار، عالمی طلب اور دیگر سپلائی ذرائع میں تبدیلی کے ساتھ یہ تخمینے دوبارہ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ تاہم تازہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ طویل جنگ نے عالمی تیل منڈی کے ذخائر اور قیمتوں پر نمایاں دباؤ برقرار رکھا ہے۔




