کراچی: پاکستان کی آٹو پارٹس صنعت کے نمائندوں اور ماہرین نے حکومت کی ٹیرف پالیسی میں مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں، یعنی سی بی یو، پر ڈیوٹی کم کرنے کے اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں کی طلب اور پرزہ جات بنانے والے ملکی وینڈرز کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ خدشات صنعت کے نمائندوں کے مؤقف ہیں؛ ابھی انہیں کسی سرکاری اثراتی جائزے یا حتمی معاشی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق آٹو ماہر عامر اللہ والا نے کہا کہ پاکستان کا آٹو شعبہ خام مال فراہم کرنے والوں، 1,200 سے زیادہ پرزہ ساز وینڈرز اور 100 سے زیادہ گاڑی اسمبل کرنے والے اداروں پر مشتمل باہم مربوط نظام ہے۔ ان کے مطابق بجلی و گیس، شرح سود، ٹیکس اور کم پیداواری پیمانے کی بلند لاگت کے باعث مقامی صنعت کو درآمدی مصنوعات کے مقابلے میں تحفظاتی ٹیرف فرق درکار ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے حکومت کو ایک مجوزہ ٹیرف ڈھانچہ دیا ہے جس میں مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں پر کم از کم 50 فیصد، مقامی طور پر تیار ہونے والے پرزوں پر 40 فیصد اور سی کے ڈی کٹس پر 30 فیصد ٹیرف کی تجویز شامل ہے۔ تنظیم نے درآمدی خام مال کے لیے صفر اور مقامی خام مال کے لیے 5 فیصد شرح کی تجویز بھی دی۔ یہ صنعت کی سفارشات ہیں اور ان کی سرکاری منظوری کی اطلاع موجود نہیں۔
صنعتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ نظرثانی شدہ ٹیرف نظام میں بعض سی بی یو گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی 30 فیصد تک آنے جبکہ سی کے ڈی کٹس پر بھی 30 فیصد شرح برقرار رہنے سے وہ فرق کم یا ختم ہو جاتا ہے جو مقامی اسمبلی کی معاشی وجہ بنتا تھا۔ پاپام کے سینئر نائب چیئرمین شہریار قادر نے کہا کہ اس صورتحال سے مقامی ویلیو ایڈیشن، روزگار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں صنعت نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مقامی آٹو پارٹس برآمدات سالانہ 200 ملین ڈالر سے زیادہ ہیں لیکن توانائی، فنانسنگ، لاجسٹکس، ٹیکس، محدود آزاد تجارتی معاہدوں اور سکیورٹی سے متعلق بیرونی تاثر کے باعث برآمدی صلاحیت پوری طرح استعمال نہیں ہو رہی۔ ان دعووں اور ممکنہ روزگار نقصان کے تخمینوں کو صنعتی فریقوں کے اندازوں کے طور پر ہی سمجھنا چاہیے، کیونکہ دستیاب رپورٹ میں آزاد حکومتی تخمینہ شامل نہیں۔
دوسری جانب کم درآمدی ڈیوٹی کے حامی عام طور پر صارفین کے لیے زیادہ انتخاب اور قیمتوں میں مسابقت کو فائدہ قرار دیتے ہیں، لیکن موجودہ رپورٹ میں حکومت کا تفصیلی جوابی مؤقف شامل نہیں تھا۔ پالیسی کا اصل اثر درآمدی گاڑیوں کی قیمت، مقامی پیداوار، پرزہ سازی، روزگار اور صارفین کے اخراجات کے آئندہ اعداد سے واضح ہوگا۔ فی الحال اہم پیش رفت یہ ہے کہ مقامی وینڈر صنعت نے نئے ٹیرف ڈھانچے پر باقاعدہ تحفظاتی تجاویز حکومت کے سامنے رکھ دی ہیں۔




