اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مجوزہ پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو دو دو نشستیں دی جائیں گی۔ وزیر کے مطابق یہ تقسیم کمیٹی میں سینیٹ کی نمائندگی سے متعلق ہے اور دیگر پارلیمانی جماعتوں کے لیے بھی نشستیں مختص کی جائیں گی۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ایک ایک نشست دی جائے گی۔ کمیٹی کے ارکان کے حتمی نام وزیراعظم، جو قائد ایوان بھی ہیں، اور نائب وزیراعظم اپوزیشن، اتحادی جماعتوں اور متعلقہ پارلیمانی قیادت سے مشاورت کے بعد طے کریں گے۔ اس مرحلے پر نشستوں کی مجوزہ تقسیم سامنے آئی ہے، لیکن تمام ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں ہوا۔
حکومت نے رواں ہفتے انتخابی اصلاحات پر تمام پارلیمانی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مجوزہ کمیٹی کی تشکیل کا عمل تیز کیا تھا۔ حکومتی رابطوں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان سمیت اتحادی جماعتوں سے نامزدگیاں مانگی گئیں، جبکہ اپوزیشن سے بھی نمائندوں کے نام طلب کیے گئے۔ پیپلز پارٹی اپنی نامزدگیاں جمع کرا چکی ہے، تاہم ان ناموں کو ابھی عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا۔
حکومت نے پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ عامر ڈوگر سے بھی اپوزیشن ارکان کے نام مانگے تھے۔ عامر ڈوگر نے مجوزہ ساخت پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کو برابر نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اس کے دیرینہ سیاسی اور انتخابی مطالبات حل کیے بغیر کمیٹی کی تشکیل نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی۔ اس لیے کمیٹی کی عملی فعالیت کا انحصار صرف نشستوں کی تقسیم پر نہیں بلکہ اپوزیشن کی شرکت اور ایجنڈے پر اتفاق پر بھی ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت پر زور دیا تھا۔ بعد میں پیپلز پارٹی کے وفد نے محمود اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس سے ملاقات کر کے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔ موجودہ پیش رفت اس سیاسی رابطہ کاری کا اگلا مرحلہ ہے۔
مجوزہ کمیٹی کا مقصد انتخابی قوانین، طریقہ کار اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات پر پارلیمانی مشاورت کے لیے ایک مشترکہ فورم بنانا ہے۔ تاہم کسی مخصوص اصلاح، قانون میں ترمیم یا انتخابی طریقہ کار میں تبدیلی پر ابھی حتمی اتفاق رپورٹ نہیں ہوا۔ کمیٹی کے ارکان کی نامزدگی، اپوزیشن کی شرکت اور باقاعدہ شرائط کار سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ انتخابی اصلاحات کا عمل کس رفتار اور دائرہ کار کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
