لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے متحدہ عرب امارات میں زیر حراست پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ دو پاکستانی شہریوں کے معاملے پر وزارت خارجہ کی پیش کردہ رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ جسٹس طارق محمود باجوہ نے متعلقہ افسر کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔ مقدمہ سید سلمان رضا زیدی اور محمد جنید جہانگیر کی حراست اور انہیں قونصلر و قانونی معاونت کی فراہمی سے متعلق درخواستوں سے پیدا ہوا ہے۔

عدالت نے 14 ستمبر کو سیکریٹری خارجہ کو دونوں شہریوں کی حراست سے متعلق نمائندگیوں پر 15 دن کے اندر کارروائی اور فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ بعد میں 22 اکتوبر کو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے الزام میں دائر توہین عدالت کی درخواستوں پر سیکریٹری خارجہ کو نوٹس جاری کیا گیا۔ وزارت خارجہ نے اٹارنی جنرل آفس کے ذریعے جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ عدالتی ہدایات ملنے کے فوراً بعد معاملہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی مشن کو بھیج دیا گیا تھا۔

ایڈیشنل سیکریٹری مشرق وسطیٰ زاہد حسین کے دستخط سے جمع کرائے گئے جواب کے مطابق پاکستانی مشن کو متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام کے ساتھ معاملہ اٹھانے اور جلد رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، تاہم اماراتی حکام کا جواب ابھی موصول نہیں ہوا۔ وزارت نے کہا کہ مطلوبہ رپورٹ آنے کے بعد حقائق، حالات اور عدالتی ہدایات کی روشنی میں سیکریٹری خارجہ مزید فیصلہ کر سکیں گے۔

درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے مؤقف اختیار کیا کہ وزارت خارجہ نے بار بار عدالتی ہدایات کے باوجود حراست سے متعلق بنیادی سوالات کا واضح جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمع کرائی گئی رپورٹ میں یہ تفصیل موجود نہیں کہ پاکستانی سفارتی مشن نے زیر حراست شہریوں تک قونصلر یا سفارتی رسائی حاصل کرنے کے لیے عملی طور پر کون سے اقدامات کیے۔ عدالت نے بھی جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افسر کی ذاتی پیشی کا حکم دیا۔

پہلی درخواست کے مطابق سلمان رضا زیدی 27 ستمبر 2024 کو شارجہ میں اپنی رہائش گاہ سے لاپتا ہوئے اور بعد میں اماراتی حکام کی تحویل میں ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ درخواست گزار فریال زینب کا مؤقف ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے شوہر کے خلاف الزامات، عدالتی کارروائی، ممکنہ سزا یا مکمل عدالتی ریکارڈ کی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ دوسری درخواست میں کہا گیا ہے کہ جنید جہانگیر کو 24 ستمبر 2024 کو سعودی عرب سے واپسی پر دبئی ایئرپورٹ پر مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ مقدمہ اس مرحلے پر پاکستانی وزارت خارجہ کی قونصلر ذمہ داری اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے نہ تو متحدہ عرب امارات میں زیر حراست افراد کے خلاف کسی الزام کی صحت پر فیصلہ دیا ہے اور نہ ان کی رہائی کا حتمی حکم سنایا ہے۔ آئندہ سماعت میں وزارت خارجہ کے افسر کی وضاحت اور اماراتی حکام سے موصول ہونے والی کسی نئی معلومات سے یہ واضح ہو سکتا ہے کہ قونصلر رسائی اور قانونی معاونت کے لیے مزید کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔