بھارت کی جیلوں میں کئی برس گزارنے والے 11 پاکستانی ماہی گیر وطن واپسی کے بعد کراچی پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی اپنے خاندانوں سے ملاقات ہوئی۔ یہ افراد ماہی گیری کے دوران سمندری حدود عبور کرنے کے بعد بھارتی حکام کی تحویل میں لیے گئے تھے اور مختلف مدتوں تک جیلوں میں رہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے ان ماہی گیروں کو تقریباً دو ماہ قبل واہگہ سرحد پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا تھا۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے انہیں لاہور سے ایمبولینسوں کے ذریعے کراچی منتقل کیا، جہاں 30 اکتوبر کی صبح میری ویدر ٹاور کے قریب ایدھی مرکز میں اہل خانہ ان کے منتظر تھے۔ رہا ہونے والے افراد نے تقریباً ساڑھے تین سے نو سال تک بھارتی قید میں وقت گزارا۔
ماہی گیروں میں مچھر کالونی کے کمال حسن بنگالی بھی شامل ہیں، جو آٹھ برس بعد واپس آئے۔ ان کے مطابق ان کی کشتی کا انجن خراب ہونے کے بعد وہ بہتے ہوئے بھارتی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے دن ہی ان کی والدہ کا انتقال ہوا، لیکن انہیں یہ خبر کئی برس بعد خط کے ذریعے ملی۔ مچھر کالونی ہی کے نور نبی بنگالی بھی اسی کشتی میں موجود تھے۔
شاہ بندر کے خمیسو صدیق ملاح نے تقریباً چار سال بھارتی قید میں گزارے۔ کورنگی کے عبدالرحمان کے مطابق وہ نو سال جیل میں رہے، جبکہ بدین کے محبوب علی ملاح نے ساڑھے تین سال قید کاٹی۔ متعدد واپس آنے والے افراد نے جیل میں خوراک اور برتاؤ کے بارے میں سخت شکایات بیان کیں۔ یہ ان افراد کے ذاتی بیانات ہیں اور رپورٹ میں بھارتی حکام کا جواب شامل نہیں تھا۔
اس موقع پر ٹھٹھہ کے سلیم سبرو بھی ایدھی مرکز پہنچے، جو پانچ سال سے اپنے لاپتا ماہی گیر بھائی احمد علی کو تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس رہا ہونے والے ایک ماہی گیر سے انہیں اپنے بھائی کے احمد آباد کی جیل میں ہونے کی اطلاع ملی تھی اور وہ پاکستانی سفارت خانے، وزارت خارجہ اور فلاحی اداروں سے رابطے میں رہے ہیں۔
فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی کی چیئرپرسن فاطمہ مجید موتانی کے مطابق 70 سے زیادہ پاکستانی ماہی گیر اب بھی بھارتی جیلوں میں موجود ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے ماہی گیر بحیرہ عرب میں غیر واضح سمندری حدود، نیوی گیشن کی محدود سہولیات اور کشتیوں کے بہاؤ کے باعث بارہا ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں، جس کے بعد ان کی گرفتاری اور طویل حراست دونوں ممالک کے درمیان انسانی اور قونصلر مسئلہ بنتی رہی ہے۔

