اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے کسٹمز قانون سے متعلق ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ چھلے ہوئے بادام اور کاجو ایس آر او 566(I)/2005 میں بیان کردہ اسمگل شدہ سامان کی مخصوص اقسام میں شامل نہیں ہیں۔ عدالت کے مطابق متعلقہ نوٹیفکیشن کی بنیاد پر ان اشیا کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 2(s)(ii) کے تحت اسمگل شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا انہیں لے جانے والی گاڑی پر وہ مخصوص پابندی خودکار طور پر لاگو نہیں ہوتی جو اسمگل شدہ سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کی واپسی یا ریڈیمپشن سے متعلق ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقدمہ سنا، جس میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔ فیصلہ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے تحریر کیا۔ مقدمہ کلکٹر کسٹمز ایم سی سی انفورسمنٹ کوئٹہ کی بلوچستان ہائیکورٹ کے 30 ستمبر 2025 کے فیصلے کے خلاف اپیل سے متعلق تھا۔
عدالت نے نوٹیفکیشن کے متن اور ساخت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس میں مختلف اشیا کی الگ الگ اقسام واضح طور پر درج کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر خوردنی تیل، بلیک ٹی، ویجیٹیبل گھی اور کوکنگ آئل کو جدا اندراجات میں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح کئی الیکٹرانک اشیا اور مصنوعی زیورات کی اقسام بھی الگ بیان کی گئی ہیں۔ عدالت کے مطابق اس طرز سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے والی اتھارٹی نے مخصوص زمروں کو جان بوجھ کر الگ شناخت کیا، اس لیے ایک عمومی عبارت کو اتنا وسیع نہیں کیا جا سکتا کہ ایسی الگ نوعیت کی اشیا بھی اس میں شامل ہو جائیں جن کا صریح ذکر موجود نہیں۔
فیصلے میں غذائی اجناس اور خوراک سے متعلق اندراجات پر بھی غور کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ عام مفہوم میں grains سے مراد گندم، چاول، مکئی، جو، جئی، باجرہ اور جوار جیسی اجناس ہیں اور بعض صورتوں میں دالیں اور پھلیاں بھی اس مفہوم میں آ سکتی ہیں، لیکن گری دار میوے اپنی الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ اگر مجاز اتھارٹی بادام اور کاجو جیسے nuts کو شامل کرنا چاہتی تو انہیں واضح طور پر الگ زمرے کے طور پر درج کیا جا سکتا تھا۔
سپریم کورٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ زیر بحث اشیا نوٹیفکیشن کی متعلقہ فہرست میں نہ ہونے کی وجہ سے محض اسی بنیاد پر اسمگل شدہ سامان کی تعریف پوری نہیں کرتیں۔ اس قانونی نتیجے کے بعد ایس آر او 499(I)/2009 کی وہ پابندی بھی اس بنیاد پر لاگو نہیں ہوتی جو اسمگل شدہ سامان لے جانے والی گاڑی کی ریڈیمپشن محدود کرتی ہے۔ فیصلہ کسٹمز حکام کے لیے یہ اصول واضح کرتا ہے کہ ضبطی اور اسمگلنگ کی قانونی درجہ بندی نوٹیفکیشن میں درج مخصوص زمروں اور قانون کے متن کے مطابق ہی کی جائے گی، نہ کہ عمومی مفہوم کو غیر محدود طور پر پھیلا کر۔

