کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں کامران چورنگی کے قریب واقع فرنیچر مارکیٹ میں شدید آگ لگنے سے 30 سے زائد دکانیں تباہ ہو گئیں۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مطابق تقریباً 35 فرنیچر دکانیں متاثر ہوئیں، جبکہ ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ قریبی رہائشی حصے تک بھی پہنچی اور ایک مکان کا کچھ حصہ متاثر ہوا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان حسن الحسیب خان کے مطابق آگ جمعہ کی ابتدائی ساعتوں میں فرنیچر مارکیٹ میں بھڑکی۔ لکڑی اور دیگر آتش گیر سامان کی بڑی مقدار موجود ہونے کے باعث شعلے تیزی سے پوری مارکیٹ میں پھیل گئے۔ آگ نے قریبی رہائشی علاقے کو بھی لپیٹ میں لیا، تاہم مکین پہلے ہی محفوظ مقامات کی طرف نکل گئے تھے، جس کی وجہ سے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

ترجمان کے مطابق چھ فائر ٹینڈرز نے تقریباً تین گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔ ریسکیو ٹیموں نے پہلے متاثرہ رہائشی مکان کی آگ بجھائی اور پھر مارکیٹ میں کارروائی جاری رکھی۔ دکانوں میں رکھا فرنیچر اور لکڑی کا سامان جل جانے سے تاجروں کو بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ دکانداروں نے نقصانات کو لاکھوں روپے میں بتایا ہے، تاہم سرکاری سطح پر مجموعی مالی نقصان کا حتمی تخمینہ جاری نہیں کیا گیا۔

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مطابق فائر بریگیڈ کو رات تقریباً ایک بج کر 35 منٹ پر اطلاع ملی اور عملہ تقریباً دس منٹ میں موقع پر پہنچ گیا۔ خشک موسم، ہوا اور لکڑی کی بڑی مقدار نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔ کے ایم سی کے چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ مارکیٹ ایک کھلے پلاٹ پر قائم تھی اور آس پاس موجود 10 سے 12 جھونپڑیاں بھی آگ میں تباہ ہوئیں۔

آگ لگنے کی حتمی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ فائر حکام نے امکان ظاہر کیا کہ قریبی جھونپڑیوں سے اٹھنے والے شعلے مارکیٹ تک پہنچے ہوں، لیکن یہ ابتدائی امکان ہے اور کسی باقاعدہ تحقیقات کے نتیجے کے طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی مارکیٹ میں ماضی میں بھی آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کراچی میں تجارتی اور صنعتی مقامات پر آتشزدگی کے واقعات مسلسل شہری تحفظ کا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ واقعے میں جانی نقصان نہ ہونا اہم ہے، لیکن درجنوں دکانوں کی تباہی ایک بار پھر فائر سیفٹی، آتش گیر سامان کی محفوظ ذخیرہ کاری، ہنگامی راستوں اور بازاروں میں حفاظتی ضوابط کے مؤثر نفاذ کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔