بھارتی جیلوں میں کئی برس قید رہنے کے بعد رہائی پانے والے 11 پاکستانی ماہی گیر کراچی پہنچ کر اپنے خاندانوں سے مل گئے ہیں۔ یہ ماہی گیر سمندر میں مچھلی پکڑتے ہوئے غیر ارادی طور پر بھارتی حدود میں داخل ہونے کے بعد گرفتار ہوئے تھے اور مختلف افراد نے تقریباً ساڑھے تین سے نو سال تک قید کاٹی۔ انہیں بھارتی حکام نے تقریباً دو ماہ قبل واہگہ سرحد کے ذریعے پاکستان کے حوالے کیا تھا، جس کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن انہیں لاہور سے کراچی لے کر پہنچی۔
ماہی گیر جمعہ کی صبح کراچی میں میری ویدر ٹاور کے قریب ایدھی مرکز پہنچے، جہاں ان کے اہل خانہ کئی گھنٹوں سے انتظار کر رہے تھے۔ طویل قید کے باعث بعض افراد نے اپنے خاندانوں میں ہونے والی اہم تبدیلیاں پہلی مرتبہ واپسی پر دیکھیں۔ مچھر کالونی کے کمال حسن بنگالی تقریباً آٹھ سال بھارتی جیل میں رہے۔ ان کے مطابق ان کی کشتی کا انجن خراب ہونے کے بعد وہ بہتے ہوئے بھارتی پانیوں میں داخل ہو گئی تھی۔ قید کے دوران انہیں اپنی والدہ کی وفات کی خبر کئی برس بعد خط کے ذریعے ملی۔
مچھر کالونی کے نور نبی بنگالی بھی اسی کشتی پر موجود تھے۔ شاہ بندر کے خمیسو صدیق ملاح نے تقریباً چار سال قید کاٹی اور واپسی پر کہا کہ وہ دوبارہ سمندر میں جانے کے بجائے مزدوری کرنے کو ترجیح دیں گے۔ کورنگی کے عبدالرحمان نے تقریباً نو سال بھارتی جیل میں گزارے، جبکہ بدین کے محبوب علی ملاح ساڑھے تین سال بعد اپنے بچوں سے ملنے کے لیے واپس پہنچے۔
رہا ہونے والے ماہی گیروں نے بھارتی جیلوں میں خوراک اور سلوک سے متعلق شکایات بھی بیان کیں۔ یہ ان افراد کے ذاتی بیانات ہیں اور آزادانہ طور پر ان الزامات کی تصدیق دستیاب رپورٹ میں نہیں کی گئی۔ بعض ماہی گیروں نے کہا کہ وہ دوبارہ سرحد کے قریب مچھلی پکڑنے سے گریز کریں گے، جبکہ کچھ نے روزگار کے محدود متبادل کے باعث ماہی گیری جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندری سرحد کے قریب ماہی گیروں کی گرفتاری کئی دہائیوں سے انسانی اور سفارتی مسئلہ ہے۔ چھوٹی کشتیوں میں جدید نیویگیشن آلات کی کمی، خراب موسم یا انجن کی خرابی کے باعث ماہی گیر غیر ارادی طور پر دوسری جانب جا سکتے ہیں۔ گرفتاری کے بعد شناخت، سزا، قونصلر رسائی اور رہائی کے انتظامات میں طویل وقت لگنے کے باعث کئی افراد سزا پوری ہونے کے بعد بھی وطن واپسی کے منتظر رہتے ہیں۔
فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی کی چیئرپرسن فاطمہ مجید موتانی کے مطابق 70 سے زیادہ پاکستانی ماہی گیر اب بھی بھارت کی جیلوں میں موجود ہیں۔ تازہ واپسی نے ان خاندانوں کو ریلیف دیا ہے، لیکن باقی زیر حراست ماہی گیروں کی جلد وطن واپسی اور سمندری حدود میں غیر ارادی داخلے کے معاملات کے لیے مستقل دوطرفہ طریقہ کار کی ضرورت بدستور موجود ہے۔

