مسلسل اپ ڈیٹس

سپریم کورٹ: ایس آر او 566(I)/2005 کی حد بندی — چھلے بادام اور کاجو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کیس کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ چھلے ہوئے بادام اور کاجو ایس آر او 566(I)/2005 میں درج مخصوص فہرست میں شامل نہیں ہیں اور محض کسی درآمدی پابندی یا شرط کی خلاف ورزی انہیں کسٹمز ایکٹ کے قانونی مفہوم میں خود بخود 'اسمگل شدہ سامان' نہیں بناتی۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی؛ تحریری فیصلہ جسٹس محمد شفیع صدیقی کا تھا۔ مقدمہ پس منظر میں اکتوبر 2024 میں نوکنڈی کے قریب ایرانی اصل چھلے بادام اور کاجو کی ضبطی اور متعلقہ گڈز ڈیکلریشن میں تضاد شامل تھا۔ ابتدائی ضبطی کے بعد کسٹمز اپیلٹ ٹریبونل نے سامان کو ڈیوٹی اور کسٹمز ویلیو کے 20 فیصد ریڈمپشن فائن پر چھوڑنے کی ہدایت کی تھی، اور بلوچستان ہائی کورٹ نے کسٹمز کے اپیلوں کو مسترد کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نوٹیفکیشن کے متن اور درجہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اتھارٹی چاہتی تو واضح الفاظ میں اشیا شامل کرتی؛ یہ حکم مخصوص نوٹیفکیشن اور متعلقہ کسٹمز دفعات کی تشریح تک محدود ہے اور عام طور پر تمام درآمدی خلاف ورزیوں کو جائز قرار دینے کا مطلب نہیں رکھتا۔

2 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

سپریم کورٹ: ایس آر او 566(I)/2005 کی حد بندی — چھلے بادام اور کاجو | اردو ہیڈ لائنز