اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کسٹمز سے متعلق ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ چھلے ہوئے بادام اور کاجو ایس آر او 566(I)/2005 کے تحت ان اشیا میں شامل نہیں جنہیں متعلقہ قانونی انتظام کے تحت اسمگل شدہ سمجھا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اشیا کی درجہ بندی اور نوٹیفکیشن کی زبان کو بنیادی اہمیت دیتے ہوئے واضح کیا کہ قانون میں درج فہرست سے باہر کسی شے کو محض مماثلت یا عمومی مفہوم کی بنیاد پر ضبطی کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔
بزنس ریکارڈر کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق معاملہ کسٹمز حکام کی کارروائی اور خشک میوہ جات کی مخصوص اقسام کی قانونی حیثیت سے متعلق تھا۔ عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا چھلے ہوئے بادام اور کاجو اس ایس آر او کی متعلقہ فہرست میں آتے ہیں جس کی بنیاد پر بعض اشیا کے بارے میں اسمگلنگ کا قانونی مفروضہ قائم کیا جاتا ہے۔ عدالت نے نوٹیفکیشن کے متن اور درج اشیا کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ زیر بحث مصنوعات فہرست میں شامل نہیں ہیں۔
فیصلے کی اہمیت اس اصول سے جڑی ہے کہ مالیاتی اور کسٹمز قوانین، خصوصاً وہ دفعات جو ضبطی یا تعزیری نتائج پیدا کر سکتی ہیں، ان کا اطلاق واضح قانونی متن کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر کسی نوٹیفکیشن میں مخصوص اشیا کی فہرست دی گئی ہو تو انتظامیہ اس فہرست کو اپنی طرف سے وسیع کر کے ایسی مصنوعات شامل نہیں کر سکتی جن کا نام یا قانونی زمرہ وہاں موجود نہ ہو۔
عدالت کا یہ نتیجہ اس بات کے مترادف نہیں کہ چھلے ہوئے بادام یا کاجو ہر صورت میں قانونی درآمد شدہ تصور ہوں گے۔ اگر کسی مخصوص کھیپ کے بارے میں دوسرے شواہد، درآمدی دستاویزات، ممنوعہ راستے یا کسی اور قابل اطلاق قانون کی خلاف ورزی موجود ہو تو وہ الگ قانونی سوال ہو سکتا ہے۔ موجودہ فیصلے کا نکتہ ایس آر او 566(I)/2005 کے تحت قانونی مفروضے اور فہرست میں اشیا کی شمولیت تک محدود ہے۔
یہ فیصلہ کسٹمز نفاذ میں درجہ بندی کی درستگی اور نوٹیفکیشن کے عین متن کی پابندی کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ درآمد کنندگان، تاجروں اور کسٹمز حکام کے لیے اس کا عملی سبق یہ ہے کہ ضبطی یا اسمگلنگ سے متعلق کارروائی میں متعلقہ قانونی شق، ٹیرف درجہ بندی اور نوٹیفکیشن کی فہرست کو واضح طور پر جوڑنا ضروری ہے، اور عدالتیں انتظامی تشریح کو قانون کے متن سے آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دیتیں۔

