اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے گزشتہ پانچ سال کے دوران ملک بھر میں اپنی 2,826.09 ایکڑ تجاوز شدہ اراضی واگزار کرائی ہے، جس کی تخمینی مالیت 21.178 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے جمعہ کو سینیٹ کے وقفہ سوالات میں یہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے انتظامیہ نے سرکاری اراضی اور املاک پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر ریلوے نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار، جوائنٹ پروسیجر آرڈر، نافذ کیا گیا ہے اور اسے سپریم کورٹ کی متعلقہ ہدایات کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے۔ ریلوے کی زمین ملک کے بڑے شہروں، ریلوے لائنوں، اسٹیشنوں اور تجارتی مقامات کے اطراف پھیلی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اس کے تحفظ اور ریکارڈ کی درستگی ادارے کے مالی اور آپریشنل مفادات کے لیے اہم ہے۔
واگزار کرائی گئی 2,826 ایکڑ سے زائد زمین کا تخمینہ 21 ارب روپے سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ یہ اعداد پانچ سال کی مجموعی کارروائی کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ کہ صرف موجودہ مالی سال کی کارکردگی۔ اس لیے ان اعداد کو ایک طویل عرصے میں جاری انسداد تجاوزات مہم کے نتیجے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں تمام مقامات کی الگ الگ تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے صوبہ وار یا شہر وار تقسیم کے بارے میں اضافی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان ریلوے طویل عرصے سے اپنی غیر استعمال شدہ، تجارتی اور آپریشنل زمین کے بہتر انتظام کو آمدن بڑھانے اور اثاثوں کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیتا آیا ہے۔ تجاوزات ہٹانے کے بعد زمین کا آئندہ استعمال متعلقہ منصوبہ بندی، قانونی حیثیت، تجارتی پالیسی اور ریلوے کی عملی ضرورت پر منحصر ہوتا ہے۔ واگزاری بذات خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ تمام زمین فوری طور پر تجارتی آمدن پیدا کرنا شروع کر دے گی۔
سینیٹ میں پیش کردہ معلومات پارلیمانی نگرانی کے تناظر میں اہم ہیں کیونکہ ریلوے کی سرکاری اراضی کی مالیت اور اس پر قبضوں کا معاملہ بارہا زیر بحث آتا رہا ہے۔ وزیر کے مطابق انتظامیہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔ آئندہ کارکردگی کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جا سکے گا کہ واگزار زمین دوبارہ قبضے سے محفوظ رہتی ہے، ریکارڈ ڈیجیٹل اور درست رکھا جاتا ہے اور قابل استعمال اثاثوں کو شفاف طریقے سے ریلوے کے آپریشنل یا مالی فائدے میں لایا جاتا ہے۔

