اسلام آباد: پاکستان کے سرکاری میڈیا نے 30 اکتوبر کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر انگور اڈہ کے علاقے میں افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی کی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق کارروائی میں جنوبی وزیرستان اور پاراچنار سے ملحق سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اور فوجی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج نے بھاری ہتھیار استعمال کیے اور اس کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کے اہلکار اپنی بعض پوزیشنیں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اسی رپورٹ میں افغان طالبان کے بعض اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، تاہم اس جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی اور دستیاب رپورٹ میں افغان حکام کا مؤقف شامل نہیں تھا۔ اس لیے ہلاکتوں سے متعلق اعداد یا دعووں کو حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی، عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت اور سرحد پار حملوں کے الزامات طویل عرصے سے تعلقات میں تناؤ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام ماضی میں بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ملک کی سلامتی اور سرحدی علاقوں کے تحفظ پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ تازہ سرکاری بیان میں بھی سکیورٹی فورسز کے اسی عزم کو دہرایا گیا۔
واقعے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ انگور اڈہ جنوبی وزیرستان کے حساس سرحدی خطے میں واقع ہے، جہاں کسی بھی فائرنگ یا فوجی ردعمل سے مقامی آبادی اور دوطرفہ تعلقات پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات بنیادی طور پر پاکستانی سکیورٹی ذرائع اور سرکاری میڈیا کے بیان پر مبنی ہیں۔ افغان جانب سے تفصیلی سرکاری ردعمل یا کسی غیر جانب دار ذریعے کی مکمل تصدیق سامنے آنے کی صورت میں واقعے کی نوعیت اور ممکنہ نقصان کی تصویر مزید واضح ہو سکے گی۔

