مٹھی: تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر میں دانو دھاندل کے بنیادی صحت مرکز پر ایمبولینس میں لگنے والی آگ کے واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔ ڈان کے مطابق کراچی کے ٹراما سینٹر میں زیر علاج ایک نومولود زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ واقعہ بدھ کی رات اس وقت پیش آیا تھا جب ایک مریض کو ایمبولینس میں منتقل کیا جا رہا تھا اور گاڑی میں موجود آکسیجن سلنڈر مبینہ طور پر پھٹنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
ابتدائی واقعے میں سات افراد موقع پر جاں بحق اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ بعد میں ایک زخمی جسونت میگھواڑ مٹھی سول اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا، جبکہ راجو میگھواڑ نامی خاتون کراچی منتقلی کے دوران جاں بحق ہوئیں۔ جمعرات کو نومولود سریش میگھواڑ کی موت کے بعد مجموعی ہلاکتیں دس تک پہنچ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایمبولینس ڈرائیور، صحت مرکز کا عملہ اور مریضوں یا ان کے اہل خانہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ دانو دھاندل گاؤں میں حادثے کے بعد سوگ کی فضا رہی اور معمول کی سرگرمیاں معطل رہیں۔ زخمیوں کو مختلف طبی مراکز منتقل کیا گیا، جبکہ حکام نے ان کے علاج کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
حادثے کی اصل تکنیکی وجہ ابھی باقاعدہ تحقیقاتی رپورٹ سے ثابت نہیں ہوئی۔ دستیاب ابتدائی معلومات میں آگ کو آکسیجن سلنڈر کے مبینہ دھماکے سے جوڑا گیا ہے، اس لیے حتمی ذمہ داری یا حفاظتی غفلت کے بارے میں نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ طبی آکسیجن کے سلنڈروں کی دیکھ بھال، اسٹوریج، ریگولیٹرز اور ایمبولینس سیفٹی کے معیارات اس تحقیقات کے اہم پہلو بن سکتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا حکم دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مضبوط کیے جائیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بھی تحقیقات کی ہدایت کی اور جاں بحق افراد کے خاندانوں کے لیے فی کس 20 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حقائق سامنے لانے کے لیے مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے رکن سندھ اسمبلی قاسم سومرو کو نگرپارکر بھیجنے کی ہدایت کی تاکہ امدادی اقدامات کی نگرانی کی جا سکے۔
یہ حادثہ دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں ایمبولینس اور بنیادی صحت مراکز کی حفاظتی تیاری کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ تحقیقات میں اگر آلات کی خرابی، دیکھ بھال میں کوتاہی یا حفاظتی طریقہ کار کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو اس کے بعد صوبے بھر میں ایمبولینسوں اور طبی آکسیجن نظاموں کے معائنے اور معیارات پر عمل درآمد کی ضرورت مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔

