اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور عوامی روابط کو وسعت دینے کے لیے مسلسل اعلیٰ سطحی رابطوں پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے دورۂ پاکستان کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقاتوں میں سامنے آئی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے سنگاپور کی اقتصادی ترقی، اختراع اور جدید خدمات کے شعبوں میں پیش رفت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان جنوب مشرقی ایشیا کی اس اہم معیشت کے ساتھ تعلقات کو دوطرفہ اور آسیان کے پلیٹ فارم دونوں پر مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ملاقات میں ڈیجیٹل معیشت، فن ٹیک، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور خدمات کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر گفتگو ہوئی۔

اس سے قبل اسحاق ڈار اور ویوین بالاکرشنن نے وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ دونوں جانب نے کاروباری وفود کے تبادلوں اور چیمبرز آف کامرس کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستانی جانب نے سنگاپور میں پاکستان ہائی کمیشن کے تجارتی و سرمایہ کاری دفتر کو دوبارہ فعال کرنے کے اقدام کو کاروبار سے کاروبار روابط بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔

مذاکرات میں تعلیم، تحقیق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت میں تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں ملکوں نے جامعات اور تحقیقی اداروں کے روابط، انسانی وسائل کی ترقی، زراعت اور موسمیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی گنجائش پر بات کی۔ سنگاپور کی جانب سے کاربن مارکیٹس کو پاکستان میں سبز سرمایہ کاری کے ممکنہ ذریعے کے طور پر بھی اجاگر کیا گیا۔

ایک اہم عملی نکتے کے طور پر دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سنگاپور کے درمیان براہ راست پروازوں کی ممکنہ بحالی پر تبادلہ خیال کیا۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد کاروباری سفر اور عوامی روابط آسان بنانا ہوگا۔ تاہم پروازوں کی بحالی کے لیے کسی حتمی تاریخ، ایئرلائن یا روٹ کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے معاملہ فی الحال زیر غور تجویز کی سطح پر ہے۔

دونوں ملکوں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا۔ یہ دستاویز پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان قدرتی آفات کی تیاری، ردعمل اور لچک بڑھانے کے لیے تعاون کا فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

پاکستانی حکام نے بالاکرشنن کے دورے کو اس لیے بھی اہم قرار دیا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد سنگاپور کے کسی وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ دونوں جانب نے علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اختلافات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ دورے کے بعد اصل امتحان ان سمجھوتوں اور زیر غور تجاویز کو تجارتی، فضائی رابطوں اور ادارہ جاتی تعاون کے قابل پیمائش اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔