لاہور ہائیکورٹ نے ٹیکس مقدمات میں الیکٹرانک طریقے سے عدالتی یا انتظامی حکم کی ترسیل سے متعلق ایک اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ان لینڈ ریونیو انفارمیشن سسٹم، یعنی آئی رس، میں کسی اپیلیٹ حکم کو صرف اپ لوڈ کر دینا بذاتِ خود انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت درست قانونی سروس نہیں بنتا۔

جسٹس مرزا وقاص رؤف اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے طاہر محمود کی سربراہی میں تین متعلقہ ریفرنس درخواستوں کا فیصلہ کیا۔ درخواست گزاروں نے اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے ان احکامات کو چیلنج کیا تھا جن میں ان کی اپیلیں مدت گزرنے کی بنیاد پر مسترد کر دی گئی تھیں۔ ٹریبونل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ متعلقہ احکامات آئی رس پر اپ لوڈ ہونے سے ان کی سروس مکمل ہو گئی تھی۔

فیصلہ تحریر کرنے والے جسٹس انوار حسین نے قرار دیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 218(1)(d) الیکٹرانک سروس کو اسی صورت تسلیم کرتی ہے جب وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہو۔ عدالت کے مطابق انکم ٹیکس رولز کا رول 74 الیکٹرانک پتے کے طور پر فیکس نمبر یا ای میل ایڈریس کا حوالہ دیتا ہے اور ترسیل کی تصدیق بھی درکار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس آئی رس ٹیکس انتظامیہ کا ویب پر مبنی داخلی ورک فلو نظام ہے، اس لیے کسی ٹیکس دہندہ کے اکاؤنٹ میں حکم رکھ دینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ قانون کے مقررہ طریقے کے مطابق اسے الیکٹرانک پتے پر بھیجا گیا۔

عدالت نے رسائی اور قانونی سروس میں فرق کرتے ہوئے کہا کہ کوئی حکم پورٹل پر قابلِ رسائی تو ہو سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قانون کے مطابق باقاعدہ طور پر پہنچا بھی دیا گیا ہے۔ اسی بنا پر اپیل دائر کرنے کی مدت ایسے واقعے سے شروع نہیں ہو سکتی جسے قانون آغازِ مدت کے طور پر تسلیم نہ کرتا ہو۔

بینچ نے محکمے کا یہ مؤقف بھی قبول نہیں کیا کہ ٹیکس دہندگان پر آئی رس مسلسل چیک کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے ٹیکنالوجی کو قانونی انتظام کا ذریعہ قرار دیا، نہ کہ قانونی اختیار کا آزاد ماخذ، اور کہا کہ جدید نظام اپنانے سے قانون میں موجود طریقہ کار اور تحفظات ختم نہیں ہوتے۔

لاہور ہائیکورٹ نے چیلنج کیے گئے ٹریبونل احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ اپیلیں میرٹ پر دوبارہ فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ یہ فیصلہ ٹیکس انتظامیہ کے ڈیجیٹل نظام اور قانونی نوٹس یا احکامات کی مؤثر ترسیل کے درمیان حد بندی کے حوالے سے اہم نظیر بن سکتا ہے۔