اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، تعلیم، تحقیق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور پاکستان کے دورے پر آئے سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات اور مشترکہ پریس گفتگو کے دوران سامنے آئی۔

سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق دونوں فریقوں نے باقاعدہ دوطرفہ سیاسی مشاورت جاری رکھنے اور حکومتوں و اداروں کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی تعاون مذاکرات کا اہم محور رہا اور دونوں ملکوں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کاروباری وفود کے تبادلوں اور چیمبرز آف کامرس کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر بات کی۔ پاکستان نے سنگاپور میں اپنے ہائی کمیشن کے تحت ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفس دوبارہ کھولنے کو کاروباری تعلقات بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

مذاکرات میں تعلیم، تحقیق اور اختراع کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت میں تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں ملکوں نے انسانی وسائل کی ترقی، زراعت، موسمیاتی شعبوں، ثقافتی و تعلیمی تبادلوں اور نوجوانوں کے روابط کو فروغ دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ نے کاروبار، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

اس موقع پر پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان ڈیزاسٹر مینجمنٹ تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے دستاویزات کا تبادلہ بھی ہوا۔ وفود کی سطح کے مذاکرات میں خوراک کے تحفظ، رابطہ کاری، سیاحت، پیشہ ورانہ تربیت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ سنگاپور کی جانب سے کاربن مارکیٹس کے ذریعے پاکستان میں سبز سرمایہ کاری لانے کی گنجائش اجاگر کی گئی۔

علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ملکوں نے مکالمے، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان نے فلسطین اور جموں و کشمیر سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا، جبکہ سنگاپور کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کی حوصلہ افزائی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ پاکستان کے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے اور سنگاپور کے 2027 میں آسیان کی صدارت سنبھالنے کے تناظر میں پاکستان-آسیان روابط مضبوط کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے دورے کے دوران ہونے والی مفاہمتوں پر بروقت عملدرآمد اور مسلسل رابطے پر اتفاق کیا۔