انگلینڈ نے ہیڈنگلے میں پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کو اننگز اور 103 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 409 رنز بنا کر 238 رنز کی سبقت حاصل کی، جس کے جواب میں پاکستان کی دوسری اننگز 37 اعشاریہ 3 اوورز میں 135 رنز پر ختم ہو گئی۔ یہ جو روٹ کے مستقل ٹیسٹ کپتان کے طور پر دوسرے دور کا پہلا میچ تھا۔

انگلینڈ کی تیز رفتار بولنگ نے پاکستان کی دوسری اننگز میں مسلسل دباؤ قائم رکھا۔ اولی رابنسن، جوفرا آرچر اور جوش ٹنگ نے تین تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ گس ایٹکنسن نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ وکٹ کیپر محمد رضوان نے 39 گیندوں پر 41 رنز بنا کر سب سے نمایاں مزاحمت کی۔ شان مسعود نے 29، عبداللہ شفیق نے 15 اور سعود شکیل نے 14 رنز بنائے، جبکہ کپتان سلمان علی آغا چار رنز بنا سکے۔

آرچر نے ابتدائی مرحلے میں امام الحق کو صفر پر آؤٹ کیا اور پھر اذان اویس کی وکٹ لی۔ جو روٹ نے لیگ سلپ میں کیچ پکڑ کر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا 219واں کیچ مکمل کیا اور نان وکٹ کیپر فیلڈر کی حیثیت سے اسٹیو اسمتھ سے آگے نکل گئے۔ رابنسن نے عبداللہ شفیق جبکہ ٹنگ نے سعود شکیل اور شان مسعود کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی بیٹنگ کسی طویل شراکت میں تبدیل نہ ہو سکی۔

پاکستان کے لیے مثبت پہلو بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان کی پہلی ٹیسٹ پانچ وکٹیں رہیں۔ انہوں نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں اور انگلش سرزمین پر ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے والے چوتھے پاکستانی اسپنر بنے۔ ان سے پہلے عبدالقادر، مشتاق احمد اور یاسر شاہ یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ انگلینڈ کی اننگز میں ہیری بروک نے 91، جورڈن کاکس نے 73، جو روٹ نے 66 اور ڈین لارنس نے 51 رنز بنائے۔

انگلینڈ نے پاکستان کو پہلی اننگز میں 171 رنز پر آؤٹ کیا تھا، جہاں رابنسن نے 51 رنز دے کر پانچ اور ٹنگ نے 46 رنز دے کر پانچ وکٹیں لیں۔ تیسرے روز میزبان ٹیم نے 366 رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ سے کھیل شروع کر کے مجموعہ 409 تک پہنچایا۔ سیریز میں واپسی کے لیے پاکستان کو اگلے ٹیسٹ سے پہلے ٹاپ آرڈر کی تکنیک، نئی گیند کے مقابل دفاع اور طویل شراکتوں پر کام کرنا ہوگا، جبکہ بولنگ میں علی عثمان کی کارکردگی ایک قابل تعمیر بنیاد فراہم کرتی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک