انگلینڈ نے ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز تین صفر سے جیت لی۔ میزبان ٹیم نے آخری اننگز میں 130 رنز کا ہدف دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا اور پاکستان کو دورے کے تمام ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
میچ میں پاکستان کی پہلی اننگز 133 رنز پر ختم ہوئی، جس کے جواب میں انگلینڈ نے 453 رنز بنائے۔ اس طرح پاکستان کو پہلی اننگز کی بنیاد پر بڑا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم نے بہتر مزاحمت دکھائی اور 449 رنز بنا کر انگلینڈ کے سامنے 130 رنز کا ہدف رکھا، لیکن یہ مجموعہ میزبان ٹیم کو سیریز کی تیسری کامیابی سے نہ روک سکا۔
ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کا آغاز غیر متوقع طور پر خراب رہا اور محمد عباس نے پہلے ہی اوور میں دونوں اوپنرز کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد جو روٹ اور جارڈن کاکس نے اننگز کو سنبھالا۔ روٹ نے ناقابل شکست 62 اور کاکس نے ناقابل شکست 59 رنز بنائے، جبکہ دونوں کی شراکت نے ابتدائی دباؤ ختم کر کے فتح یقینی بنا دی۔
پاکستان کی دوسری اننگز میں ڈیبیو کرنے والے رضااللہ نے 81 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی اور ٹیم کو مقابلے میں واپس لانے کی کوشش کی۔ تاہم انگلینڈ کو دیا گیا ہدف کم تھا اور میزبان بیٹنگ نے ابتدائی دو وکٹوں کے باوجود اسے حاصل کر لیا۔ ریڈیو پاکستان، رائٹرز اور میچ اسکور کارڈ کی تفصیلات نتیجے، ہدف اور سیریز کے مجموعی اسکور کی تصدیق کرتی ہیں۔
تین صفر کی شکست پاکستان کے لیے بیٹنگ، پہلی اننگز کی کارکردگی اور مستقل مزاجی سے متعلق کئی سوالات چھوڑ گئی ہے۔ دوسری اننگز کی مزاحمت مثبت پہلو رہی، مگر پہلی اننگز کا خسارہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ انگلینڈ کے لیے یہ کامیابی مکمل سیریز فتح ہے، جبکہ پاکستان کو آئندہ ٹیسٹ مقابلوں سے پہلے ٹیم کی مجموعی حکمت عملی اور کارکردگی کا جائزہ لینا ہوگا۔




