برمنگھم: انگلینڈ نے ایجبسٹن میں تیسرے ٹیسٹ کے آخری روز پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 3-0 سے جیت لی۔ میزبان ٹیم کو فتح کے لیے 130 رنز درکار تھے اور ابتدائی جھٹکوں کے باوجود جو روٹ اور جارڈن کاکس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ہدف 25ویں اوور میں حاصل کر لیا۔

پاکستان کے فاسٹ بولر محمد عباس نے ہدف کے تعاقب کے پہلے ہی اوور میں بین ڈکٹ اور ایمیلیو گے کو آؤٹ کر کے انگلینڈ کو دباؤ میں ڈال دیا تھا، لیکن اس کے بعد روٹ اور کاکس نے تیسری وکٹ کے لیے ناقابل شکست شراکت قائم کی۔ روٹ 62 جبکہ کاکس 59 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ روٹ کو ایک موقع پر محمد علی کی نو بال پر بولڈ ہونے کے بعد زندگی بھی ملی، جس نے پاکستان کی واپسی کی امیدوں کو نقصان پہنچایا۔

پاکستان نے پہلی اننگز میں 320 رنز کا خسارہ برداشت کیا تھا، تاہم دوسری اننگز میں ٹیم نے خاصی مزاحمت دکھائی اور 449 رنز بنا کر میچ کو چوتھے روز تک پہنچایا۔ نوجوان ڈیبیو کرنے والے رضااللہ نے 81 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جبکہ شان مسعود 95 اور بابر اعظم 76 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ اس مزاحمت کے باوجود انگلینڈ کے لیے آخری روز ہدف نسبتاً چھوٹا تھا۔

انگلینڈ کی جانب سے اولی روبنسن سیریز کے نمایاں بولر رہے اور انہوں نے مجموعی طور پر 21 وکٹیں حاصل کیں۔ انگلینڈ کے لیے یہ 19 ماہ بعد پہلی ٹیسٹ سیریز فتح بھی ہے۔ بین اسٹوکس کی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد جو روٹ کی کپتانی میں یہ سیریز ٹیم کے لیے اہم بحالی سمجھی جا رہی ہے۔

پاکستان کے لیے دورہ مشکل ثابت ہوا۔ ٹیم نے سیریز کے دوران کئی تبدیلیاں کیں اور دوسرے ٹیسٹ کے بعد اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے ساتھ کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلی ہوئی۔ کپتان بابر اعظم نے تیسرے ٹیسٹ کے بعد کہا کہ پاکستان کو چند اچھے مواقع ملے، لیکن پہلی اننگز میں نرم انداز میں وکٹیں گنوانا مہنگا پڑا۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اس دورے کو سیکھنے کا موقع قرار دیا۔

سیریز کے اختتام کے بعد پاکستان کا اگلا ٹیسٹ چیلنج اکتوبر میں سری لنکا کے خلاف متوقع ہے، جبکہ انگلینڈ دسمبر اور جنوری میں جنوبی افریقہ کے دورے کی تیاری کرے گا۔