ایک نئی علمی تحقیق نے عالمی ماحولیاتی پالیسی میں ذہنی صحت اور نفسیاتی بہبود کو مرکزی حیثیت دینے کی ضرورت اجاگر کی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، نقل مکانی اور روزگار کے نقصان کو صرف مالی یا جسمانی نقصان کے طور پر دیکھنا ناکافی ہے، کیونکہ یہ واقعات اضطراب، افسردگی اور طویل المدتی نفسیاتی صدمے کا سبب بھی بنتے ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نیویارک یونیورسٹی گراس مین اسکول آف میڈیسن کی ماہرِ نفسیات اور آبادیاتی صحت کی پروفیسر مناسی کمار کی قیادت میں ہونے والی تحقیق نے عالمی ماحولیاتی معاہدوں کا ذہنی صحت کے زاویے سے جائزہ لیا۔ محققین کے مطابق پیرس معاہدہ، حیاتیاتی تنوع کا کنونشن اور خطرناک کیمیائی مادوں سے متعلق معاہدے ماحول کے تحفظ کے لیے بنائے گئے، مگر انسانی ذہنی بہبود کو کامیابی کے باقاعدہ پیمانے کے طور پر شامل نہیں کرتے۔
تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ ماحولیاتی حکمرانی کو بیماری پیدا ہونے کے بعد علاج تک محدود رکھنے کے بجائے پیشگی ذہنی صحت پالیسی کے طور پر استعمال کیا جائے۔ خطرناک زرعی کیمیکلز تک رسائی محدود کرنے، پارے اور سیسے جیسی آلودگی کم کرنے اور آفات سے نمٹنے کے منصوبوں میں نفسیاتی مدد شامل کرنے سے کئی ذہنی مسائل کے خطرات پہلے ہی گھٹائے جا سکتے ہیں۔
محققین نے ترجیحات کا ایک درجہ وار خاکہ بھی پیش کیا ہے۔ خطرناک کیمیائی مادوں اور فضلے سے متعلق معاہدوں کو سب سے فوری اہمیت دی گئی، کیونکہ ان کے صحت پر اثرات براہِ راست اور قابلِ پیمائش ہیں۔ موسمیاتی اور حیاتیاتی تنوع کے معاہدے اگلی سطح پر رکھے گئے ہیں، جہاں آفات، خوراک کی عدم دستیابی، نقل مکانی اور ثقافتی شناخت کے نقصان کے ذریعے ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔
مطالعے کے مطابق نئی اور مہنگی ڈیٹا مشینری قائم کرنا ضروری نہیں۔ خودکشی کی شرح، بچوں کی نشوونما، آفات کے بعد ذہنی دباؤ، غذائی عدم تحفظ اور نقل مکانی سے متعلق بہت سا ڈیٹا پہلے ہی جمع کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پیمانوں کو ماحولیاتی معاہدوں کے عملی نتائج سے جوڑا جائے اور اعدادوشمار کو عمر، جنس، آمدنی اور علاقے کے لحاظ سے بہتر انداز میں تقسیم کیا جائے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ بحث خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں سیلاب، گرمی کی لہروں اور زرعی نقصان سے نوجوانوں، خواتین اور کم آمدنی والی آبادی پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ذہنی صحت میں بروقت سرمایہ کاری سے نہ صرف فرد اور خاندان کی بہبود بہتر ہو سکتی ہے بلکہ کام کی صلاحیت، تعلیم اور معاشی پیداوار کو ہونے والے نقصان میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
تحقیق میں مقامی قیادت اور علاقائی تعاون پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی خطرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے، لیکن متاثرہ برادریوں کی ثقافت، زبان، روزگار اور زمین سے وابستگی مختلف ہوتی ہے۔ اسی لیے قومی پالیسی، علاقائی تعاون اور مقامی سطح پر نفسیاتی معاونت کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
محققین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ماحول کی حفاظت اور انسانی ذہن کی حفاظت دو الگ مقاصد نہیں۔ اگر عالمی معاہدوں کی کامیابی کو صرف اخراج میں کمی یا محفوظ رقبے سے ناپنے کے بجائے متاثرہ آبادی کی ذہنی بہبود سے بھی جانچا جائے تو ماحولیاتی پالیسی زیادہ انسانی، مؤثر اور جواب دہ بن سکتی ہے۔




