برسلز: یورپی یونین بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے ایک وسیع پالیسی پیکج میں 15 سال سے کم عمر صارفین کی سوشل میڈیا، ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اور آن لائن گیمز تک آزاد رسائی محدود کرنے کی تجویز پیش کرنے جا رہی ہے۔ رائٹرز نے یورپی کمیشن کی ایک دستاویز کا جائزہ لیا ہے جس کے مطابق یہ منصوبہ EU Kids Act کا حصہ ہوگا۔
دستاویز کے مطابق 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچے اپنے اکاؤنٹس خود بنا سکیں گے، جبکہ 13 اور 14 سال کے بچوں کے لیے والدین کی نگرانی میں ابتدائی نوعیت کے اکاؤنٹس کی گنجائش ہوگی۔ ان اکاؤنٹس پر رابطوں کی تعداد اور استعمال کے وقت کے لیے سخت حدود رکھی جا سکتی ہیں۔ 3 سے 12 سال کے بچوں کے اکاؤنٹس مکمل طور پر والدین کے کنٹرول میں ہوں گے اور صرف بچوں کے لیے موزوں، سخت حفاظتی معیار رکھنے والی خدمات تک محدود کیے جائیں گے، جبکہ 3 سال سے کم عمر بچوں کو ان خدمات تک رسائی نہ دینے کی تجویز ہے۔
مجوزہ قواعد صرف صارفین پر پابندیاں عائد نہیں کریں گے بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی نئی ذمہ داریاں ڈالیں گے۔ سوشل میڈیا اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز سے نئے اکاؤنٹ بناتے وقت بچوں کی عمر کی تصدیق کا تقاضا کیا جا سکتا ہے، جبکہ آن لائن گیم پلیٹ فارمز کو گیم ڈاؤن لوڈ سے پہلے عمر جانچنے کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ کمپنیوں کو نقصان دہ مواد رپورٹ کرنے کے آسان طریقے، مؤثر والدین کنٹرول اور ایسے ڈیزائن سے گریز کرنا ہوگا جو بچوں میں ضرورت سے زیادہ استعمال یا لت کی حوصلہ افزائی کریں۔
دستاویز میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ کمپنیوں سے نگرانی کی فیس وصول کی جائے تاکہ ریگولیٹرز کے نفاذ اور نگرانی کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن اور یورپی یونین کی ٹیک سربراہ ہینا ورکونن اس منصوبے کو پیش کرنے والی ہیں، جبکہ اس سے پہلے کچھ تفصیلات ریاستِ یونین خطاب میں سامنے آ سکتی ہیں۔
یہ اقدام فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب، ChatGPT اور دیگر بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بچوں کی صحت، ذہنی فلاح اور حفاظت پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے پس منظر میں تیار کیا گیا ہے۔ کئی کمپنیاں پہلے ہی کم از کم عمر کی حدود اور والدین کنٹرول کی سہولتیں رکھتی ہیں، مگر مجوزہ قانون پورے یورپی بلاک میں زیادہ یکساں اور قابلِ نفاذ معیار قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ ابھی حتمی قانون نہیں۔ رائٹرز کے مطابق مسودے کی تفصیلات اعلان سے پہلے تبدیل ہو سکتی ہیں، اور یورپی کمیشن کو اسے رکن ممالک اور یورپی پارلیمنٹ کے ساتھ آنے والے کئی مہینوں میں مذاکرات اور قانون سازی کے عمل سے گزارنا ہوگا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو پابندی کے فوری نفاذ کے بجائے ایک بڑی قانون سازی تجویز کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

