اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انفرادی ٹیکس دہندگان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی جانچ میں خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو وسعت دینے کے لیے قواعد کا مسودہ پیش کیا ہے۔ مجوزہ انتظام کے تحت گوشواروں میں درج معلومات کو ٹیکس حکام کے پاس دستیاب دوسرے ریکارڈ سے ملا کر ممکنہ غلطیوں، قانونی مسائل اور تضادات کی نشان دہی کی جائے گی۔ یہ نظام ابتدائی جانچ میں معاونت کرے گا، تاہم کسی اختلاف یا غلطی کی نشان دہی بذات خود جرمانے یا قانونی کارروائی کا فیصلہ نہیں ہوگی۔
ڈان کی سات اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترمیم کے ذریعے قاعدہ 38-بی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مسودے میں الیکٹرانک جانچ اور خودکار نظام سے سامنے آنے والے معاملات کی پیشگی اطلاع کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ متعلقہ فریقوں کی آرا حاصل کرنے کے لیے تین دن کی مدت رکھی گئی ہے، جس کے بعد مجوزہ قواعد کو حتمی شکل دی جانی ہے۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو نافذ شدہ حتمی قواعد کے بجائے مجوزہ ضابطہ سمجھنا ضروری ہے۔
تجویز کے مطابق اگر نظام کو کسی گوشوارے میں تضاد ملتا ہے تو ٹیکس دہندہ کو ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس پورٹل کے ذریعے الیکٹرانک اطلاع دی جائے گی۔ اس اطلاع میں متعلقہ مسئلہ واضح ہوگا تاکہ شہری اپنے ریکارڈ کی وضاحت کر سکے یا درستگی کے لیے ضروری قدم اٹھا سکے۔ متعلقہ ان لینڈ ریونیو افسر بھی اس نوعیت کی پیشگی اطلاع بھیج سکے گا۔
مسودے میں پہلی اطلاع کا جواب دینے کے لیے کم از کم سات دن مقرر کرنے کی بات کی گئی ہے۔ مقررہ مدت میں جواب نہ آنے پر ایک یاددہانی بھیجی جائے گی جس میں مزید کم از کم سات دن دیے جائیں گے۔ اس کے بعد متعلقہ افسر موصولہ وضاحت یا جواب نہ ملنے کی صورت حال کا جائزہ لے کر قابل اطلاق قانون اور قواعد کے مطابق آئندہ قدم طے کرے گا۔
اس انتظام کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ کمپیوٹر کے ذریعے سامنے آنے والے اشارے اور باقاعدہ قانونی فیصلہ دو الگ مراحل رہیں گے۔ خودکار نظام معلومات کا تقابل اور ممکنہ مسئلے کی شناخت کرے گا، جبکہ کارروائی کے جواز کا جائزہ متعلقہ افسر لے گا۔ اس سے ٹیکس دہندگان کو ابتدائی مرحلے پر اپنے گوشوارے میں موجود ممکنہ غلطی دور کرنے کا موقع دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ قواعد کے عملی نتائج کا انحصار حتمی متن اور اس کے نفاذ پر ہوگا۔
