اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات، 8 اکتوبر 2026 کو ہوگا۔ اس فیصلے کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت ایک روپے 82 پیسے بڑھ کر 396 روپے 65 پیسے ہوگئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 91 پیسے فی لیٹر سستا ہونے کے بعد 394 روپے 94 پیسے میں فروخت ہوگا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کررہی ہے۔ نئی قیمتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ حکومت نے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ بار ردوبدل کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہوا ہے۔

پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں، چھوٹی گاڑیوں اور نجی نقل و حمل میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ بالخصوص روزانہ سفر کرنے والے افراد کے اخراجات پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل مال بردار گاڑیوں، بڑی ٹرانسپورٹ، بعض بجلی گھروں اور جنریٹروں میں استعمال ہوتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں کمی ان شعبوں کے ایندھن کے اخراجات کے حوالے سے اہم ہے، تاہم اس سے کرایوں یا اشیا کی قیمتوں میں کسی فوری کمی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال اپریل کے اوائل میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جبکہ پیٹرول کی قیمت بھی اسی عرصے میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح پر رہی۔ ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ تازہ قیمتیں سابقہ بلند ترین سطحوں سے کم ہیں، لیکن ایندھن کی لاگت اب بھی صارفین اور کاروباروں کے لیے ایک اہم معاشی معاملہ ہے۔

حکومت نے ایندھن کے بڑھتے اخراجات کے تناظر میں کفایت شعاری کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں بازاروں کے بند ہونے کے اوقات سے متعلق پابندیاں اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے مختص حصے میں عارضی کمی شامل ہیں۔ ستمبر میں وزیر اعظم نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم تازہ نوٹیفکیشن میں بنیادی طور پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی فی لیٹر قیمتیں بتائی گئی ہیں۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نئی تاریخ پر نافذ ہونے والے سرکاری نرخوں کو مدنظر رکھیں کیونکہ قیمتوں میں بار بار تبدیلی کی جارہی ہے۔