اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مخصوص الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی اسمبلنگ کے لیے درآمد ہونے والی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس استثنا کی مدت ایک سال بڑھا کر 30 جون 2027 کر دی ہے۔ ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے متعلق ہدایات فیلڈ فارمیشنز کو جاری کرتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے موجود کئی ٹیکس سہولتوں کے تسلسل کی وضاحت کی ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول میں مخصوص الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس کی درآمد پر دی گئی رعایت پہلے 30 جون 2026 تک نافذ تھی۔ ایف بی آر نے اب اس مدت کو مزید ایک سال بڑھا دیا ہے۔ مخصوص الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد کی رعایتی سیلز ٹیکس شرح بھی 30 جون 2027 تک برقرار رکھی گئی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق پالیسی کا مقصد الیکٹرک موبیلٹی کے شعبے میں تسلسل پیدا کرنا اور مقامی صنعت کو اچانک ٹیکس تبدیلیوں سے بچانا ہے۔ الیکٹرک بسوں کے ساتھ ساتھ مکمل تیار شدہ حالت میں درآمد ہونے والے بعض الیکٹرک ٹرکوں کے لیے بھی رعایتی ٹیکس شرح فراہم کی گئی ہے۔ حکومت اس اقدام کو صاف توانائی پر مبنی ٹرانسپورٹ کے فروغ سے جوڑ رہی ہے۔

وفاقی ایکسائز ایکٹ کے تحت درآمدی اور مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر عائد ایف ای ڈی سے متعلق الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سابق استثنا کی مدت بھی 30 جون 2027 تک بڑھائی گئی ہے، تاہم مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے الگ شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق 75 ہزار ڈالر سے زیادہ اور 110 ہزار ڈالر تک مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد وفاقی ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی، جبکہ 110 ہزار ڈالر سے زیادہ مالیت کی گاڑیوں پر شرح 40 فیصد ہوگی۔

یہ تبدیلی اس پس منظر میں کی گئی ہے کہ عمومی طور پر لگژری گاڑیوں پر ایف ای ڈی کی شرحیں زیادہ ہیں، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کو پہلے وسیع رعایت حاصل تھی۔ نئی پالیسی میں حکومت نے ایک طرف عام اور مخصوص الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کم ٹیکس اور اسمبلنگ سہولت برقرار رکھی ہے، جبکہ دوسری جانب بلند قیمت لگژری ای وی ماڈلز کو زیادہ ٹیکس دائرے میں شامل کیا ہے۔

ٹیکس پالیسی میں یہ توسیع پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی اسمبلنگ، درآمدی کٹس کی لاگت اور نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ ایف بی آر کی ہدایات کے مطابق رعایت کی مدت واضح ہونے سے صنعت کو آئندہ مالی سال تک ٹیکس منصوبہ بندی میں نسبتاً زیادہ یقین ملے گا۔