کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے آنے والی مجموعی رقوم اگست 2026 کے اختتام تک 13.906 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی کے اختتام پر یہ حجم 13.647 ارب ڈالر تھا، اس طرح اگست میں 259 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بزنس ریکارڈر میں شائع اعداد و شمار کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے آنے والی مجموعی رقوم میں سے 2.130 ارب ڈالر بیرون ملک واپس منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 8.767 ارب ڈالر پاکستان کے اندر مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوئے۔ اس حساب سے اگست کے اختتام پر خالص قابل واپسی واجبات تقریباً 3 ارب ڈالر رہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ بقایا قابل واپسی رقم کا بڑا حصہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں موجود ہے۔ ان سرٹیفکیٹس میں مجموعی سرمایہ کاری 2.048 ارب ڈالر بتائی گئی، جس میں 716 ملین ڈالر روایتی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اور 1.332 ارب ڈالر اسلامی سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کی صورت میں موجود ہیں۔ روشن ایکویٹی انویسٹمنٹس کا حجم 155 ملین ڈالر جبکہ اکاؤنٹس میں موجود نقد بیلنس 729 ملین ڈالر بتایا گیا۔
اگست 2026 کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد 966,144 تک پہنچ گئی، جو جولائی میں 956,790 تھی۔ اس طرح ایک ماہ کے دوران 9,345 نئے اکاؤنٹس کا اضافہ ہوا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اگست میں 259 ملین ڈالر کی مجموعی آمد گزشتہ چھ ماہ کی 290 ملین ڈالر اوسط سے کم، تاہم ستمبر 2020 سے پروگرام کے آغاز کے بعد طویل مدتی 193 ملین ڈالر ماہانہ اوسط سے زیادہ رہی۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام اسٹیٹ بینک نے ستمبر 2020 میں شروع کیا تھا تاکہ غیر مقیم پاکستانی پاکستان آئے بغیر ڈیجیٹل طریقے سے بینک اکاؤنٹس کھول اور چلا سکیں۔ یہ اکاؤنٹس پاکستانی روپے، امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو سمیت مختلف کرنسیوں میں دستیاب ہیں اور ان کے ذریعے بینکاری، ادائیگیوں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ بیرون ملک اثاثے ایف بی آر کے سامنے ظاہر کرنے والے مقیم پاکستانی بھی مخصوص شرائط کے تحت فارن کرنسی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔




