اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے معاملات ایسے مرکزی نظام سے چلائے جائیں گے جہاں متعلقہ افسر اور ٹیکس دہندہ کے درمیان براہ راست رابطہ محدود ہوگا۔ ایف بی آر کے مطابق اس اصلاح کا مقصد ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت بڑھانا، صوابدیدی اختیار کم کرنا اور شکایات کی ایک بڑی وجہ بننے والے آمنے سامنے رابطے کو ختم کرنا ہے۔

ایف بی آر کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ بورڈ اِن کونسل کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی سربراہی چیئرمین ایف بی آر کرتے ہیں۔ نیا نظام پاکستان کے نیو ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کا حصہ ہے اور اس کی اصولی منظوری حکومت نے جون میں دی تھی۔ فیس لیس ماڈل کو قانونی بنیاد فنانس ایکٹ 2026 سے حاصل ہے۔

نئے طریقہ کار میں آڈٹ کے لیے کیس کسی افسر کی انفرادی پسند کے بجائے کمپیوٹرائزڈ اور رسک بیسڈ نظام سے منتخب ہوگا۔ منتخب کیس خودکار طور پر ملک کے کسی بھی حصے میں موجود افسر کو دیا جا سکے گا۔ ٹیکس دہندہ کو کیس سنبھالنے والے افسر کی شناخت معلوم نہیں ہوگی اور افسر بھی یہ طے نہیں کرے گا کہ اسے کون سا کیس ملے۔

ایف بی آر کے مطابق ہر کیس تین الگ مراحل سے گزرے گا۔ ایک افسر آڈٹ کرے گا، دوسرا اسیسمنٹ تیار کرے گا جبکہ تیسرا افسر حتمی حکم جاری ہونے سے پہلے کوالٹی ریویو کرے گا۔ اس طرح ایک ہی افسر کے پاس کسی ٹیکس کیس پر ابتدا سے اختتام تک مکمل کنٹرول نہیں ہوگا۔ نوٹس، جوابات اور سماعتیں ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس نظام کے ذریعے الیکٹرانک طور پر ہوں گی۔ جہاں قانون کے تحت جسمانی تصدیق یا ریکوری ضروری ہو، وہاں الگ فیلڈ ٹیم کارروائی کرے گی۔

نیشنل فیس لیس سینٹر کی سربراہی ان لینڈ ریونیو کے چیف کمشنر سطح کے افسر کے پاس ہوگی اور اس میں آڈٹ، اسیسمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور فیلڈ آپریشنز کے لیے الگ ونگز ہوں گے۔ ایف بی آر نے پروگرام مینجمنٹ یونٹ بھی قائم کیا ہے جو نئے نظام کے نفاذ کی نگرانی کرے گا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یکساں قواعد، ڈیٹا پر مبنی فیصلے اور الیکٹرانک رابطہ ٹیکس کارروائی کو زیادہ تیز، منصفانہ اور شفاف بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔