فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ان لینڈ ریونیو سروس اور پاکستان کسٹمز سروس کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 اکتوبر 2026 تک نئے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیں۔ 22 ستمبر کو رپورٹ ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ ہدایت 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے دی گئی ہے اور اس کا مقصد افسران کے اثاثہ جاتی گوشواروں کی دستی جمع آوری کو ڈیجیٹل نظام سے تبدیل کرنا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے آمدن اور اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے، ان کی تصدیق اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق اشاعت کے لیے نیا ڈیجیٹل طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ اقدام اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایات کے تحت کیا جا رہا ہے اور اس کا حوالہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 15-اے اور سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے متعلقہ تقاضوں سے دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 16 ستمبر 2026 کے آفس میمورنڈم میں ایف بی آر کے تعاون سے ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کی ہدایت جاری کی تھی۔ نئے طریقہ کار کے تحت متعلقہ افسر کو اپنا نام، عہدہ، فعال ای میل ایڈریس، موبائل نمبر اور قومی شناختی کارڈ نمبر اپنے کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو فراہم کرنا ہوگا تاکہ آن لائن پورٹل پر اس کا اکاؤنٹ بنایا جا سکے۔ حکام نے ذاتی ای میل استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی ہے تاکہ تبادلے یا سرکاری پوسٹنگ کی تبدیلی سے اکاؤنٹ رابطہ متاثر نہ ہو۔

اکاؤنٹ بننے کے بعد ایف بی آر متعلقہ افسر کو ای میل، ایس ایم ایس یا مقررہ ذرائع سے اطلاع دے گا۔ اس کے بعد افسر آن لائن نظام میں اپنے مالی اور اثاثہ جاتی کوائف داخل کر سکے گا۔ دستی طریقہ ختم کرنے کا مقصد ریکارڈ کو یکساں بنانا، وصولی اور تصدیق کے عمل کو قابلِ نگرانی بنانا اور مقررہ قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل کو آسان کرنا بتایا گیا ہے۔

یہ ہدایت براہ راست عام ٹیکس دہندگان کے سالانہ انکم ٹیکس گوشواروں کی آخری تاریخ سے متعلق نہیں بلکہ مخصوص سرکاری افسران کے اثاثہ جات و واجبات کے ڈیکلریشن نظام سے متعلق ہے۔ ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو اس نئے طریقہ کار پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ 30 اکتوبر کی آخری تاریخ کے اندر مطلوبہ معلومات جمع کرانا متعلقہ افسران کی ذمہ داری ہوگی۔