کراچی/اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ نے 126 ارب روپے کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز اور ڈیوٹی ریبیٹس کی ادائیگی کا حکم دے دیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق متعلقہ سیلز ٹیکس ریفنڈز اور ریبیٹس کو آئندہ دو سے تین ماہ کے اندر کلیئر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ کاروباری اداروں اور برآمدکنندگان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ ٹیکس ریفنڈز اور ڈیوٹی ریبیٹس کی تاخیر سے کمپنیوں کی ورکنگ کیپیٹل ضروریات متاثر ہوتی ہیں۔ ریفنڈ بنیادی طور پر وہ رقم ہوتی ہے جو ٹیکس نظام کے تحت کاروبار نے ادا کی ہو مگر قواعد کے مطابق واپس ملنی ہو، جبکہ ڈیوٹی ریبیٹ بعض برآمدی یا تجارتی سرگرمیوں میں ادا شدہ محصولات کی واپسی یا رعایت سے متعلق ہوتا ہے۔

126 ارب روپے کی مجموعی رقم کی ادائیگی کے حکم کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایف بی آر کلیمز کی تصدیق، منظوری اور ادائیگی کس رفتار سے مکمل کرتا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے دو سے تین ماہ کی مدت کا ذکر کاروباری برادری کے لیے ایک متوقع ٹائم لائن فراہم کرتا ہے، تاہم ہر انفرادی دعوے کی ادائیگی متعلقہ قانونی اور دستاویزی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط رہ سکتی ہے۔

کاروباری حلقے طویل عرصے سے ریفنڈز کے بروقت اجرا کو نقدی کے بہاؤ، برآمدی مسابقت اور صنعتی پیداوار کے لیے اہم قرار دیتے رہے ہیں۔ جب کمپنیوں کی رقم ٹیکس ریفنڈ کی صورت میں طویل مدت تک پھنسی رہے تو انہیں خام مال، اجرت، توانائی اور دیگر جاری اخراجات کے لیے اضافی مالی انتظام کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے بڑے پیمانے پر زیر التوا ادائیگیوں کی کلیئرنس کو کاروباری لیکویڈیٹی کے لیے مثبت قدم سمجھا جاتا ہے۔

فی الحال دستیاب رپورٹ میں 126 ارب روپے کی رقم کی شعبہ وار تقسیم یا ہر قسم کے ریفنڈ کی الگ مالیت کی مکمل تفصیل شامل نہیں۔ اگلے دو سے تین ماہ میں اصل پیش رفت اس بات سے واضح ہوگی کہ حکم کے تحت کتنی رقم بالفعل ادا ہوتی ہے اور زیر التوا کلیمز کے حجم میں کتنی کمی آتی ہے۔