کراچی: قطر سے تقریباً 81,936 میٹرک ٹن مائع قدرتی گیس لے کر آنے والا ایل این جی کیریئر ’المروّنا‘ آبنائے ہرمز سے کامیاب گزرنے کے بعد پورٹ قاسم پہنچ گیا ہے۔ جہاز نے قطر کے راس لفان ٹرمینل سے سفر شروع کیا تھا اور 7 ستمبر کو آبنائے ہرمز عبور کیا۔ یہ کھیپ پاکستان اور قطر کے درمیان حکومتی سطح کے انتظام کے تحت منگوائی گئی ہے۔
اس کھیپ کی آمد ایسے وقت ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کے تبادلے، ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں اور خلیجی بحری راستوں کے بارے میں خدشات نے توانائی کی عالمی تجارت کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت دس روزہ اوسط سے نیچے رہی، جس سے تیل اور گیس کی رسد کے تسلسل کے بارے میں تشویش بڑھی۔
پاکستان میں اس کارگو کو بجلی کے شعبے کے لیے فوری اہمیت حاصل ہے، کیونکہ ملک کے بعض حصوں میں چھ سے بارہ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ رپورٹ کی جا رہی ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ایل این جی کارگو کی قیمت برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد کے مساوی فارمولے پر طے ہوئی۔ تاہم ایک کھیپ کی آمد توانائی کی رسد کے طویل مدتی خطرات ختم نہیں کرتی، خصوصاً اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی دوبارہ شدید متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 5 ستمبر کو جاری کیا گیا ایک اسپاٹ ایل این جی ٹینڈر بھی منسوخ کیا، جو 8 ستمبر کو کھلنا تھا۔ اس پس منظر میں قطر سے معاہداتی کھیپ کی بروقت آمد ملک کی فوری گیس اور بجلی کی ضروریات کے لیے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جولائی میں ہرمز سے متعلق کشیدگی بڑھنے کے بعد خلیج سے باہر نکلنے والی پہلی قطری ایل این جی کھیپوں میں نمایاں واقعہ ہے۔
المروّنا کے کامیاب سفر کو عالمی ایل این جی مارکیٹ بھی قریب سے دیکھ رہی تھی، کیونکہ قطر دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کی زیادہ تر بحری رسد ہرمز کے راستے گزرتی ہے۔ پاکستان کے لیے موجودہ کارگو مختصر مدت میں ریلیف فراہم کر سکتا ہے، مگر مستقبل کی قیمتیں، بیمہ لاگت اور مزید کھیپوں کی بروقت آمد خطے کی سکیورٹی اور بحری راستوں کی دستیابی سے جڑی رہے گی۔




