اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس رولز 2002 میں مزید ترامیم کا مسودۂ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کا تعلق ٹیکس تنازعات کے متبادل حل، یعنی آلٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولیوشن (اے ڈی آر)، کے طریقۂ کار سے ہے۔ مجوزہ تبدیلیاں خاص طور پر رول 231C کو متاثر کریں گی، تاہم ایف بی آر کی پیشکش ابھی مسودے کی صورت میں ہے اور زیرِ جائزہ رپورٹس کے مطابق اسے نافذ شدہ حتمی قانون یا قاعدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

مسودے کے تحت اے ڈی آر کے ذریعے تنازع حل کرانے کے خواہش مند ٹیکس دہندہ کو ایف بی آر کے مقررہ فارم پر درخواست دینا ہوگی۔ درخواست کے ساتھ اس نمائندے کی مکمل تفصیل فراہم کرنا بھی لازم تجویز کیا گیا ہے جسے ٹیکس دہندہ اپنی جانب سے تنازع کے حل کے عمل میں نامزد کرے گا۔ اس شرط کا مقصد درخواست اور نمائندگی کے ریکارڈ کو یکساں شکل دینا ہے، لیکن فارم کے تمام خانے، جانچ کا دورانیہ اور نامکمل درخواست کے نتائج کی مکمل تفصیل زیرِ جائزہ مختصر نوٹیفکیشن رپورٹس میں بیان نہیں ہوئی۔

ایک اہم مجوزہ شرط یہ ہے کہ درخواست گزار اے ڈی آر کمیٹی میں تقرری کے لیے تین ریٹائرڈ ججوں کے نام بھی تجویز کرے۔ رپورٹوں میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان ناموں میں سے حتمی انتخاب کس ترتیب سے ہوگا، نامزد افراد کی رضامندی کس مرحلے پر لی جائے گی یا کسی نام کے مسترد ہونے کی صورت میں متبادل طریقہ کیا ہوگا۔ ان پہلوؤں کی حتمی حیثیت ایف بی آر کے منظور شدہ قواعد اور متعلقہ نوٹیفکیشن سے ہی طے ہوگی۔

اے ڈی آر کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ٹیکس دہندہ اور محصولاتی حکام کے درمیان بعض تنازعات کو روایتی اپیل یا طویل عدالتی کارروائی کے بجائے ایک مقررہ انتظامی و مشاورتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اے ڈی آر کے لیے درخواست دینا کسی ٹیکس مطالبے کے خودکار خاتمے، ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلے یا عدالتی حکم کے برابر نہیں ہوتا۔ کمیٹی کی تشکیل، فریقین کا مؤقف اور قابلِ اطلاق قانون الگ مراحل ہیں، جن کی تکمیل کے بعد ہی کسی تنازع کا نتیجہ سامنے آتا ہے۔

مجوزہ قواعد درخواست گزار پر دستاویزی ذمہ داری بڑھاتے ہیں، کیونکہ اسے نہ صرف اپنا مقدمہ اور نمائندہ واضح کرنا ہوگا بلکہ ریٹائرڈ ججوں کے نام بھی پیش کرنا ہوں گے۔ اس تبدیلی کے عملی فائدے یا مشکلات کا درست اندازہ نفاذ کے بعد درخواستوں کی تعداد، کمیٹیوں کی تشکیل میں لگنے والے وقت، زیرِ التوا تنازعات اور فیصلوں پر عمل درآمد کے اعداد و شمار سے ہوگا۔ صرف مسودہ جاری ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تنازعات کے حل کا وقت لازماً کم ہوجائے گا۔

ایف بی آر نے 3 ستمبر کو یہ تجاویز پیش کیں۔ ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے کے کاروباری جریدے پروفٹ نے یکساں طور پر رپورٹ کیا کہ ترامیم ابھی مجوزہ ہیں۔ اس لیے ٹیکس دہندگان اور مشیروں کو کسی درخواست سے پہلے موجودہ نافذ قواعد اور ایف بی آر کا حتمی نوٹیفکیشن دیکھنا ہوگا۔ تازہ پیش رفت کا مصدقہ حصہ رول 231C میں تبدیلی کا مسودہ، مقررہ درخواست، نامزد نمائندے کی تفصیل اور تین ریٹائرڈ ججوں کے نام تجویز کرنے کی شرط ہے؛ حتمی نفاذ کی تاریخ اور مکمل طریقۂ کار ابھی واضح ہونا باقی ہے۔