اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے آئندہ مسابقتی پاور نیلامی میں شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کو لازمی اہلیتی شرط بنانے کے لیے قواعد میں ترامیم منظور کر لی ہیں۔ فیصلے کے تحت حکومت اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر آف پاکستان (آئی ایس ایم او) مجوزہ نیلامی میں حصہ لینے والے ونڈ یا سولر منصوبوں سے کم از کم مقررہ ذخیرہ گنجائش طلب کر سکیں گے۔
نیپرا کے منظور کردہ متن کے مطابق ایسا بولی دہندہ جو شمسی یا ہوائی پیداواری ٹیکنالوجی استعمال کرنا چاہتا ہو، صرف اسی صورت اہل ہوگا جب بجلی گھر کے مقام پر نصب اس کے بیٹری اسٹوریج نظام کی firm capacity متعلقہ ونڈ یا سولر پلانٹ کی firm capacity کے کم از کم 10 فیصد کے برابر ہو۔ دس فیصد کم از کم حد ہے؛ سرمایہ کار مالی اور تکنیکی موزونیت کی بنیاد پر اس سے زیادہ ذخیرہ گنجائش بھی تجویز کر سکتے ہیں۔
یہ ترمیم حکومت کے تقریباً 800 میگاواٹ قابلِ تجدید بجلی کی مسابقتی خریداری کے مجموعی پروگرام سے متعلق ہے۔ ڈان کے مطابق نیپرا کی منظوری سے آئی ایس ایم او کو پہلے 400 میگاواٹ بلاک کے لیے رواں ماہ درخواستِ تجاویز، یعنی RFP، جاری کرنے کی راہ مل گئی ہے۔ تاہم RFP کا اجرا، بولیوں کی وصولی، کامیاب کمپنیوں کا انتخاب اور منصوبوں کی تعمیر الگ مراحل ہیں؛ تازہ فیصلہ خود کسی 800 یا 400 میگاواٹ پلانٹ کی تکمیل یا بجلی کی فوری فراہمی نہیں ہے۔
پہلی آئی ایس ایم او نیلامی میں امیدواروں کو RFP شائع ہونے کے بعد تجاویز جمع کرانے کے لیے دو ماہ دیے جائیں گے اور یہ مدت مقرر اور ناقابلِ توسیع ہوگی۔ بعد کی نیلامیوں کے لیے معمول کی مدت ایک ماہ رکھی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ کے لیے اضافی وقت کا مقصد نئی مسابقتی ساخت، بیٹری شرط اور دستاویزی تقاضوں کے مطابق نجی شعبے کو تیاری کا موقع دینا بتایا گیا ہے۔
منظور شدہ ترامیم میں بولی کے عمل سے متعلق شکایات کے لیے تین رکنی آزاد شکایتی کمیٹی بھی شامل ہے۔ کمیٹی کی سربراہی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے، جبکہ آئی ایس ایم او بورڈ کے دو آزاد ڈائریکٹر اس کے ارکان ہوں گے۔ اس بندوبست کا مقصد اہلیت جانچنے والی نیلامی کمیٹی اور اسی فیصلے کے خلاف شکایت سننے والے فورم کو الگ رکھنا ہے، تاکہ ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ پر اعتراض کم ہو۔
آئی ایس ایم او نے نیپرا کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ بیٹری ذخیرہ قومی گرڈ میں بڑھتی شمسی اور ہوائی پیداوار کے اتار چڑھاؤ کو سنبھالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ دن کے وقت بڑی مقدار میں چھتوں کی شمسی بجلی دستیاب ہونے سے گرڈ کی طلب کم اور شام میں صارفین کی واپسی سے طلب اچانک بڑھ سکتی ہے، جسے عام طور پر ’ڈک کرو‘ چیلنج کہا جاتا ہے۔ بیٹریاں اضافی یا کم قیمت اوقات کی بجلی ذخیرہ کرکے ضرورت کے وقت فراہم کر سکتی ہیں، لیکن عملی فائدہ نظام کے ڈیزائن، دورانیے، کارکردگی اور ڈسپیچ قواعد پر منحصر ہوگا۔
ریگولیٹر کے ریکارڈ کے مطابق مختلف سرمایہ کاروں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور مالی ماڈلنگ کے بعد کم از کم 10 فیصد حد طے کی گئی۔ اس ماڈلنگ میں مخصوص سطح تک زیادہ BESS گنجائش سے سرمایہ کاری کے ممکنہ منافع میں بہتری کا اندازہ ظاہر کیا گیا، مگر یہ ہر منصوبے کے لیے یقینی منافع کی ضمانت نہیں۔ بیٹری کی قیمت، زندگی، متبادل لاگت، شرحِ سود، درآمدی شرح مبادلہ اور حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت اصل معاشی نتیجہ طے کریں گے۔
حکومت نے جولائی 2026 میں بیٹری شرط شامل کرنے کا پالیسی ارادہ ظاہر کیا تھا؛ 4 ستمبر کی پیش رفت اس ارادے کو نیپرا کے منظور کردہ نیلامی قواعد میں جگہ دینے سے متعلق ہے۔ حتمی منصوبہ جاتی لاگت، کامیاب نرخ، بیٹری کا مطلوبہ ذخیرہ دورانیہ، حفاظتی معیار اور بجلی کی فراہمی کی تاریخیں بولی دستاویزات اور بعد کے معاہدوں سے سامنے آئیں گی۔ فی الحال مصدقہ نتیجہ قواعدی منظوری، 10 فیصد کم از کم شرط، پہلی بولی کے لیے دو ماہ اور الگ شکایتی کمیٹی کا قیام ہے۔




