اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 30 اکتوبر 2026 تک ٹیکس سال 2026 کے لیے ریکارڈ 75 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 30 اکتوبر تک 57 لاکھ ریٹرنز جمع ہوئے تھے، یوں سالانہ بنیاد پر گوشواروں کی تعداد میں تقریباً 18 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گوشواروں کی تعداد میں یہ اضافہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، دستاویزی معیشت بڑھانے اور زیادہ افراد و کاروبار کو رسمی ٹیکس نظام میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریٹرن جمع ہونا بذاتِ خود اضافی ٹیکس وصولی کے برابر نہیں ہوتا، کیونکہ حتمی مالی اثر گوشواروں میں ظاہر کردہ آمدن، واجب الادا ٹیکس، ادائیگیوں اور ایف بی آر کی جانچ کے بعد واضح ہوتا ہے۔ تاہم فائلنگ کی تعداد میں اضافہ ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ شرکت کے پھیلاؤ کا ایک اہم انتظامی اشاریہ ہے۔
اسی دوران پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے ایف بی آر سے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی مدت میں مزید 34 دن کی توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبے میں فائلنگ سے متعلق نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر اور ٹیکس دہندگان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے اضافی وقت دینے کی ضرورت کا حوالہ دیا۔ اس مطالبے کو ابھی حتمی سرکاری منظوری نہیں سمجھا جا سکتا اور فائلنگ کی قابل اطلاق آخری تاریخ ایف بی آر کے باقاعدہ فیصلے یا نوٹیفکیشن کے مطابق ہوگی۔
پاکستان میں ٹیکس بنیاد محدود رہنے اور براہ راست ٹیکس وصولی بڑھانے کی ضرورت طویل عرصے سے مالیاتی پالیسی کا اہم موضوع ہے۔ زیادہ گوشوارے جمع ہونے سے ایف بی آر کے پاس آمدن اور کاروباری سرگرمی کے بارے میں وسیع ڈیٹا آتا ہے، لیکن مؤثر ٹیکس اصلاحات کے لیے صرف تعداد بڑھانا کافی نہیں؛ درست گوشواروں، واجبات کی وصولی، شفاف آڈٹ اور منصفانہ نفاذ بھی ضروری ہیں۔
30 اکتوبر تک کے اعداد و شمار پچھلے سال کی اسی تاریخ کے مقابلے میں واضح اضافہ دکھاتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں حتمی فائلنگ تعداد اور اس کے ساتھ جمع ہونے والے ٹیکس کی مالیت یہ طے کرنے میں زیادہ مدد دے گی کہ ریکارڈ ریٹرنز نے محصولات اور ٹیکس نیٹ کی حقیقی توسیع پر کتنا اثر ڈالا۔

