اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تین پٹرولیم مصنوعات — پٹرولیم ٹاپ نفتھا، وائٹ اسپرٹ یا منرل ٹرپینٹائن آئل (ایم ٹی ٹی) اور سالوینٹ آئل — پر 80 روپے فی لیٹر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) نافذ کرنے سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق یہ اقدام فنانس ایکٹ 2026 کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کے لیے اپنے سیلز ٹیکس بجٹ ہدایات میں بتایا کہ عام پٹرولیم مصنوعات پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد ہوتی ہے، جبکہ مذکورہ تین مصنوعات اس لیوی کے دائرے میں نہیں تھیں۔ حکام کے مطابق اس فرق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر نسبتاً کم ٹیکس والی مصنوعات کو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی والی مصنوعات میں ملا کر زیادہ قیمت پر فروخت کرتے تھے، جس سے نہ صرف سرکاری محصول متاثر ہوتا تھا بلکہ ایندھن کے معیار اور مارکیٹ نگرانی سے متعلق مسائل بھی پیدا ہوتے تھے۔
ایف بی آر نے کہا ہے کہ اسی ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ان تین مصنوعات پر 80 روپے فی لیٹر ایف ای ڈی عائد کی گئی ہے۔ یہ ڈیوٹی سیلز ٹیکس موڈ میں وصول ہوگی، جس کے لیے فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے فرسٹ شیڈول میں متعلقہ اندراج شامل کیا گیا ہے۔ ان مصنوعات کو سیکنڈ شیڈول میں بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ رجسٹرڈ کاروباری ادارے قواعد کے مطابق ادا شدہ ڈیوٹی کو آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس کے مقابل ایڈجسٹ کر سکیں۔
ایف بی آر نے صنعتی استعمال کنندگان کے لیے ایک مشروط طریقہ کار بھی رکھا ہے۔ ایسے صنعتی ادارے جو ان مصنوعات کو خام مال یا ان پٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، مخصوص شرائط پوری کرنے کی صورت میں ڈیوٹی سے اخراج یا استثنا حاصل کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ سہولت ان صورتوں میں دی جا سکتی ہے جہاں حتمی مصنوعات سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہو، یا سپلائر اور مینوفیکچرر دونوں ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ ڈیجیٹل انوائسنگ کے لیے منسلک ہوں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی ڈیوٹی کا بنیادی مقصد ریونیو بڑھانے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ کے معاشی محرک کو کم کرنا ہے۔ چونکہ پی ڈی ایل والی اور بغیر پی ڈی ایل والی مصنوعات کے درمیان ٹیکس کا فرق ملاوٹ کے لیے مالی فائدہ پیدا کر سکتا تھا، اس لیے ایف بی آر نے ایکسائز ڈیوٹی کے ذریعے اس فرق کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایف بی آر کی ہدایات میں ریفائنری اپ گریڈیشن سے متعلق سیلز ٹیکس سہولتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق جدید ماحولیاتی معیار، صاف ایندھن اور اخراج میں کمی کے لیے ریفائنریوں کو مہنگی مشینری اور آلات درآمد کرنا پڑتے ہیں، اس لیے متعلقہ ڈویژن کی پیشگی منظوری کے ساتھ مخصوص اشیا پر سیلز ٹیکس استثنا فراہم کیا گیا ہے۔
نئی ایف ای ڈی کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فیلڈ فارمیشنز اسے کس طرح نافذ کرتی ہیں، صنعتی استثنا کی جانچ کیسے ہوتی ہے اور ملاوٹ کے خلاف نگرانی کتنی مؤثر رہتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پالیسی یہ ہے کہ تین نامزد پٹرولیم مصنوعات پر 80 روپے فی لیٹر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے اور ایف بی آر نے اس کے نفاذ کے لیے باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔




