وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے پس منظر میں موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق اس اقدام کا مقصد حالیہ پیٹرولیم قیمتوں کے اضافے کا بوجھ کم آمدن اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے شہریوں پر کم کرنا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور دیگر دو یا تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جائے گی۔ اسی طرح 800 سی سی تک کی چھوٹی کاروں کے مالکان کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر تک اسی شرح سے ریلیف ملے گا۔ اس طرح اسکیم کی اصل مالی منفعت ہر اہل صارف کے استعمال اور مقررہ حد کے مطابق ہوگی، نہ کہ تمام خریدے گئے ایندھن پر غیر محدود رعایت کی صورت میں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اسکیم کا نفاذ پہلے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں پیر اور منگل کی درمیانی شب سے شروع ہوگا، جبکہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے اسے ملک کے دیگر حصوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک توسیع دی جائے گی۔ رجسٹریشن کا عمل 13 ستمبر سے شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ طریقۂ کار سے متعلق عوامی آگاہی مہم کے ذریعے مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور اسی لیے ہدفی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تعاون کیا۔ یہ ڈیٹا اہل صارفین کی شناخت اور رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے کی توقع ہے، تاہم دستیاب سرکاری خبر میں مکمل تکنیکی تصدیقی نظام، ادائیگی کے طریقے یا تمام اہلیت شرائط کی تفصیل نہیں دی گئی۔

اسکیم کو پیٹرول کی عمومی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اعلان واضح طور پر مخصوص اقسام کی گاڑیوں، رجسٹرڈ صارفین اور ماہانہ مقررہ مقدار تک محدود ہدفی رعایت سے متعلق ہے۔ اس کے مالیاتی اخراجات، سبسڈی کے مجموعی حجم اور وفاقی بجٹ پر اثرات کی مکمل تفصیلات بھی فوری اعلان میں شامل نہیں تھیں۔ آئندہ مرحلے میں رجسٹریشن طریقۂ کار، تصدیق، ادائیگی اور ملک گیر نفاذ کی عملی تفصیلات اس اسکیم کی کامیابی اور عوامی رسائی کے لیے اہم ہوں گی۔