اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ہوا بازی اور بحری شعبے کے لیے سیلز ٹیکس میں اہم رعایتوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ نئی ہدایات کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ تمام ایئرلائن کمپنیوں کے لیے طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد یا لیز پر سیلز ٹیکس استثنا کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں اور جہاز سازی میں استعمال ہونے والی مخصوص مشینری و سرمایہ جاتی آلات کی درآمد پر پہلے ختم کی گئی چھوٹ بھی بحال کر دی گئی ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو بتایا کہ متعلقہ شیڈول میں سیریل نمبر 181A شامل کرکے طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد یا لیز کا استثنا پاکستان میں رجسٹرڈ ایئرلائن کمپنیوں تک وسیع کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس قانون میں منظور شدہ حالیہ تبدیلیوں پر عمل درآمد واضح کرنا اور متعلقہ کسٹمز و سیلز ٹیکس حکام کو یکساں ہدایات فراہم کرنا ہے۔

بحری شعبے میں ایف بی آر نے پاکستانی پرچم تلے چلنے والے جہازوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس استثنا بحال کرنے کی اطلاع دی ہے۔ یہ سہولت 2021 میں واپس لے لی گئی تھی۔ اسی طرح جہاز سازی کے لیے درآمد کی جانے والی پلانٹ، مشینری اور بعض دیگر سرمایہ جاتی اثاثوں پر بھی چھوٹ دوبارہ فراہم کی گئی ہے۔ اس رعایت کا عملی دائرہ متعلقہ قانونی تعریفوں، دستاویزی شرائط اور درآمد کنندہ یا آپریٹر کی اہلیت سے طے ہوگا۔

ہوا بازی کے شعبے میں طیارے اور پرزہ جات بہت زیادہ سرمائے والے اثاثے ہوتے ہیں اور ان پر درآمدی ٹیکس یا سیلز ٹیکس براہ راست ایئرلائن کی فلیٹ لاگت، لیزنگ فیصلوں اور مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح شپنگ اور مقامی جہاز سازی میں بڑے سرمایہ جاتی آلات پر ٹیکس پالیسی نئی سرمایہ کاری اور بیڑے کی توسیع کے فیصلوں کے لیے اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔ تاہم کسی کمپنی کی لاگت میں حتمی کمی کا انحصار اس کی مخصوص درآمد، معاہدے، فنانسنگ اور دیگر قابل اطلاق محصولات پر ہوگا۔

ایف بی آر کی ہدایات میں بین الاقوامی فضائی سفر کے بعض اعلیٰ درجے کے ٹکٹوں پر فکسڈ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں میں ردوبدل کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کلب، بزنس اور فرسٹ کلاس ٹکٹوں کے لیے مختلف خطوں کے حساب سے فکسڈ ڈیوٹی کو معقول بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں شمالی امریکا، مشرق وسطیٰ، یورپ، مشرق بعید اور آسٹریلیا کے لیے الگ رقمیں مقرر کی گئی ہیں۔

یہ اقدامات مالی سال 2026-27 کے ٹیکس فریم ورک کے نفاذ کا حصہ ہیں۔ سیلز ٹیکس چھوٹ کا اعلان اس بات کی خودکار ضمانت نہیں کہ فضائی ٹکٹ، فریٹ یا شپنگ چارجز اسی تناسب سے کم ہو جائیں گے، کیونکہ صارف قیمتوں میں ایندھن، کرایہ، آپریشنز، فنانسنگ، دیگر ٹیکس اور طلب و رسد سمیت متعدد عناصر شامل ہوتے ہیں۔

کاروباری اداروں کے لیے فوری اہمیت یہ ہے کہ متعلقہ استثنا کی اہلیت اور دستاویزات درست طور پر پوری کی جائیں۔ ایف بی آر کے جاری کردہ فیلڈ ہدایات کے بعد کسٹمز اور ٹیکس حکام کے لیے نئی رعایتوں کے اطلاق کا انتظامی فریم ورک زیادہ واضح ہو گیا ہے، جبکہ ہوا بازی اور بحری صنعت کو اپنے درآمدی اور سرمایہ کاری منصوبوں میں ان تبدیلیوں کا جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔