اسلام آباد: پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ تجارت کو زیادہ متنوع بنانے، مارکیٹ رسائی بہتر کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور مجموعی اقتصادی تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے زرعی شعبے اور زرعی اجناس سمیت باہمی تجارت کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ پاکستان میں کینیڈین کمپنیوں کی موجودگی نسبتاً محدود ہے اور کان کنی، زراعت، قابل تجدید توانائی اور دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے۔
محمد اورنگزیب نے پاکستانی معیشت میں حالیہ استحکام، بیرونی مالی ذخائر مضبوط کرنے اور ساختی اصلاحات جاری رکھنے سے متعلق حکومتی مؤقف سے ہائی کمشنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے پالیسی اور ضابطہ جاتی ماحول کو زیادہ قابل پیش گوئی بنانا ضروری ہے۔ کینیڈین ہائی کمشنر نے سرمایہ کاری سے متعلق انتظامات اور دونوں ملکوں کی کاروباری برادریوں کے درمیان مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔
گفتگو میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے نظام اور کینیڈا سے منسلک ری سائیکل کپڑوں کے ایک کاروبار کے آپریشنز سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیر خزانہ نے اس سرگرمی سے روزگار اور ماحولیاتی فوائد کا حوالہ دیتے ہوئے معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس پیش رفت کو کسی مخصوص کمپنی کے لیے حتمی ریگولیٹری منظوری نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ دستیاب بیان میں صرف معاملے کو متعلقہ اداروں تک پہنچانے کا ذکر ہے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے نجکاری پروگرام اور خصوصاً ہوا بازی کے شعبے میں ممکنہ مواقع کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت قابل اعتماد، طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا چاہتی ہے۔ ملاقات میں کسی نئے تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری پیکیج یا مخصوص مالی رقم کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا؛ بات چیت بنیادی طور پر تعاون کے ممکنہ شعبوں اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے پر مرکوز رہی۔
پاکستان اور کینیڈا کے اقتصادی تعلقات میں پاکستانی برآمدات، تارکین وطن سے جڑے کاروباری روابط اور مختلف خدمات و اشیا کی تجارت پہلے سے موجود ہے، تاہم دونوں فریقوں نے موجودہ تجارتی بنیاد سے آگے بڑھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار کاروباری رابطوں، سرمایہ کاری تحفظ کے انتظامات، شعبہ وار مذاکرات اور متعلقہ سرکاری و ریگولیٹری فیصلوں پر ہوگا۔
