اسلام آباد: پاکستان اور تاجکستان نے زرعی و غذائی شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے، کاروبار سے کاروبار روابط بڑھانے اور نئی تجارتی راہیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور پاکستان میں تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آیا۔

ملاقات میں دونوں فریقوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم دونوں ملکوں کی معاشی صلاحیت کے مقابلے میں محدود ہے اور اسے مزید فعال سرکاری و نجی رابطوں کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے۔ رانا تنویر حسین نے خاص طور پر زراعت، فوڈ پراسیسنگ، لائیو اسٹاک، زرعی ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کو ایسے شعبوں کے طور پر اجاگر کیا جہاں مشترکہ منصوبوں، تجارت اور تکنیکی تعاون کے امکانات موجود ہیں۔

تاجک سفیر نے بھی باہمی تجارت کے فروغ کے لیے متبادل آپشنز اور نئے تجارتی راستوں کی تلاش پر زور دیا۔ وسطی ایشیا تک زمینی رسائی، ٹرانزٹ لاگت، ادائیگی کے انتظامات اور باقاعدہ کاروباری رابطے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت میں عملی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ملاقات میں B2B روابط بڑھانے کو مرکزی ترجیح کے طور پر پیش کیا گیا۔

یہ ملاقات جون 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے وسیع تر تین سالہ تجارتی روڈمیپ کا متبادل یا نیا جامع معاہدہ نہیں تھی۔ تازہ پیش رفت قومی غذائی تحفظ کے شعبے میں مخصوص وزارتی اور سفارتی رابطہ ہے، جس میں زرعی و غذائی تجارت کے امکانات پر توجہ دی گئی۔ دستیاب بیان میں کسی نئے ٹیرف معاہدے، درآمدی کوٹے، سرمایہ کاری رقم یا مخصوص برآمدی معاہدے پر دستخط کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی منڈیاں زرعی مصنوعات، پروسیسڈ فوڈ اور لائیو اسٹاک سے متعلق مصنوعات کی برآمد کے امکانات رکھتی ہیں، جبکہ تاجکستان بھی غذائی تحفظ، زرعی ٹیکنالوجی اور ویلیو چین میں تعاون کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھنے سے مصنوعات کے معیار، طلب، سرٹیفکیشن اور لاجسٹکس کی ضروریات زیادہ واضح ہو سکتی ہیں۔

ملاقات کا فوری نتیجہ تعاون جاری رکھنے اور نئے مواقع تلاش کرنے کا مشترکہ عزم ہے۔ اس کے عملی اثرات کا جائزہ مستقبل میں تجارتی وفود، کاروباری معاہدوں، شعبہ وار منصوبوں، زرعی تکنیکی تبادلوں یا تجارت کے حجم میں قابل پیمائش اضافے سے کیا جا سکے گا۔