لاہور: پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) نے صوبے میں سروسز ٹیکس کی نگرانی مضبوط بنانے اور ممکنہ ٹیکس چوری کی نشاندہی کے لیے ایک ’ڈیجیٹل سنٹرل مانیٹرنگ سیل‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ نیا سیل ٹیکس ادائیگیوں، کاروباری ریکارڈ اور مختلف مالی اعداد و شمار کا مسلسل جائزہ لے گا تاکہ ظاہر کردہ کاروباری سرگرمی اور عملی لین دین کے درمیان ممکنہ فرق سامنے لایا جا سکے۔
پی آر اے کے ترجمان کے مطابق مانیٹرنگ کا خاص مرکز مقامی اور بین الاقوامی فوڈ چینز ہوں گی۔ ان کاروباروں کے ڈیجیٹل اور نقد ادائیگیوں کے ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ کم ظاہر کی گئی فروخت، غلط یا تبدیل شدہ ریکارڈ اور اصل واجب الادا ٹیکس سے کم ذمہ داری ظاہر کرنے جیسے معاملات کی نشاندہی کی جا سکے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ نگرانی صرف ڈیجیٹل ادائیگیوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ نقد لین دین بھی نئے فریم ورک کا حصہ ہوگا۔
نئے نظام میں کاروباری سرگرمی کے عملی حجم اور ٹیکس مقاصد کے لیے ظاہر کیے گئے اعداد و شمار کے درمیان فرق تلاش کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مختلف مالی ذرائع سے دستیاب معلومات کا باہمی موازنہ کیا جائے گا۔ ٹیکس گوشواروں، جمع کرائی گئی ادائیگیوں اور کاروباری حجم سے متعلق ظاہر کردہ معلومات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے گا تاکہ عدم مطابقت یا ایسے رجحانات کی نشاندہی ہو سکے جو مزید جانچ کے متقاضی ہوں۔
پی آر اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس وصولی کو زیادہ درست بنانا اور سروسز سیکٹر میں جعلی یا گمراہ کن مالی ریکارڈ کے ذریعے واجبات کم ظاہر کرنے کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔ ڈیجیٹل سنٹرل مانیٹرنگ سیل کے ذریعے ایک ہی جگہ پر مسلسل نگرانی کی سہولت پیدا ہوگی، جس سے مختلف کاروباروں کے ریکارڈ کا تقابلی تجزیہ اور ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن بنائی جا سکے گی۔
اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ پی آر اے ٹیکس چوری اور دھوکا دہی کے خلاف ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اعلان میں کسی مخصوص کاروبار کے خلاف خلاف ورزی ثابت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا؛ نئی نگرانی کا مقصد دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر عدم مطابقت کی نشاندہی اور قانون کے مطابق مزید جانچ کرنا ہے۔
