کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل، 15 ستمبر 2026 کی صبح ابتدائی کاروبار کے دوران تیزی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2 ہزار پوائنٹس بڑھ گیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق صبح 9 بج کر 35 منٹ پر انڈیکس 169,970.23 پوائنٹس کے قریب تھا، جو گزشتہ بندش کے مقابلے میں 1,999.58 پوائنٹس یا تقریباً 1.19 فیصد زیادہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق خریداری آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری شعبے سمیت کئی اہم سیکٹرز میں دیکھی گئی۔ انڈیکس پر نمایاں وزن رکھنے والے متعدد حصص بھی مثبت زون میں ٹریڈ کر رہے تھے۔
یہ تیزی ایک ایسے سیشن کے اگلے روز سامنے آئی جب پیر کو مارکیٹ میں شدید فروخت ہوئی تھی۔ پیر کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,541.20 پوائنٹس گر کر 167,970.66 پر بند ہوا تھا۔ اس کمی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز سے متعلق خطرات اور عالمی خام تیل کی قیمتوں کا 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنا سرمایہ کاروں کے لیے بڑے خدشات میں شامل تھا۔ بلند تیل کی قیمتیں پاکستان کے درآمدی بل، ایندھن کی مہنگائی اور مانیٹری پالیسی کے منظرنامے پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
منگل کی صبح سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اس خبر سے بھی سہارا ملا کہ یورو بانڈ رقوم کی آمد کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ اجرا کے ذریعے تقریباً 3 ارب ڈالر جمع کیے تھے۔
عالمی منڈیوں میں بھی اسی وقت غیر یقینی کیفیت برقرار تھی۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، تیل کی بلند قیمتوں اور امریکا و جاپان کے مرکزی بینکوں کے اہم اجلاسوں سے قبل ایشیائی حصص میں محتاط رجحان دیکھا گیا۔ بزنس ریکارڈر نے واضح کیا ہے کہ اس کی رپورٹ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے، اس لیے دن کے اختتام تک انڈیکس کی حتمی سطح مختلف ہو سکتی ہے۔
