اسلام آباد: پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات گزشتہ مالی سال میں پہلی مرتبہ 500 ملین ڈالر کی سطح عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ وزارت بحری امور کے مطابق یہ برآمدی کارکردگی گزشتہ دو برس کے دوران تقریباً 38 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے اور ملک کی فشریز و سی فوڈ ویلیو چین کے لیے ایک نیا برآمدی سنگ میل ہے۔
وزارت کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق منجمد مچھلی پاکستان کی سب سے بڑی سی فوڈ برآمدی کیٹیگری رہی، جس سے 105 ملین ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوا۔ پاکستانی مچھلی اور دیگر سمندری خوراک چین، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں کو برآمد کی جا رہی ہے۔
حکام نے برآمدی معیار، فوڈ سیفٹی اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کو حالیہ اضافے کے اہم عوامل میں شمار کیا ہے۔ سمندری خوراک کی تجارت میں درآمد کنندہ ممالک کے صحت، ٹریس ایبلٹی، پروسیسنگ اور معیار سے متعلق ضابطے اہم ہوتے ہیں، اس لیے نئی منڈیوں تک رسائی صرف پیداوار بڑھانے سے نہیں بلکہ سرٹیفکیشن اور معیار برقرار رکھنے سے بھی منسلک رہتی ہے۔
568 ملین ڈالر کا عدد گزشتہ مکمل مالی سال کی برآمدات سے متعلق ہے، نہ کہ رواں مالی سال کے ابتدائی مہینوں کی کارکردگی۔ اسی طرح 38 فیصد اضافہ وزارت کے مطابق دو سال کی مدت میں ریکارڈ ہوا، اس لیے اسے ایک سال کی سالانہ شرح نمو کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان کی ساحلی پٹی، ماہی گیری اور سمندری وسائل برآمدی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اس شعبے کو کولڈ چین، جدید پروسیسنگ، بندرگاہی سہولیات، پائیدار ماہی گیری اور بین الاقوامی معیار کی مسلسل تعمیل جیسے چیلنجز بھی درپیش رہتے ہیں۔ برآمدات میں حالیہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بہتر مارکیٹ رسائی اور معیار سے زرمبادلہ آمدن میں اضافہ ممکن ہے۔
حکومت سمندری معیشت کو وسیع برآمدی حکمت عملی کا حصہ بنانے کی بات کرتی رہی ہے۔ آئندہ اس ریکارڈ کی پائیداری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان نئی منڈیوں میں مستقل رسائی برقرار رکھتا ہے، خام یا کم قدر والی مصنوعات کے بجائے زیادہ قدر والی پراسیسڈ مصنوعات کا حصہ بڑھاتا ہے اور مچھلی کے ذخائر کو ماحولیاتی طور پر پائیدار طریقے سے استعمال کرتا ہے۔
موجودہ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ وزارت بحری امور نے گزشتہ مالی سال کے لیے 568 ملین ڈالر کی سی فوڈ برآمدات رپورٹ کی ہیں اور اسے پہلی مرتبہ 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرنے کا واقعہ قرار دیا ہے۔
