اسلام آباد: پاکستان اور متعدد افریقی ممالک کے نمائندوں نے دوطرفہ تجارت کو 2030 تک 15 ارب ڈالر تک بڑھانے اور اقتصادی تعلقات کو روایتی اشیا سے آگے سرمایہ کاری اور نئے کاروباری شعبوں تک وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ مؤقف اسلام آباد میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے آغاز کی تقریب میں سامنے آیا، جس میں مختلف افریقی ملکوں کے سفارتی نمائندوں اور پاکستانی سرکاری و کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق تقریب میں روانڈا، ماریشس، مراکش، زمبابوے، سوڈان، کینیا اور ایتھوپیا سمیت مختلف افریقی ممالک کے سفیر، ہائی کمشنرز اور قونصل جنرل شریک ہوئے۔ شرکا نے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں اطراف کی منڈیوں اور وسائل کی مکمل صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتا اور کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور مارکیٹ رسائی میں اضافہ کرکے تجارت کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کو دونوں خطوں کے کاروباری حلقوں اور پالیسی سازوں کے درمیان مستقل رابطے کے لیے ایک ممکنہ پلیٹ فارم قرار دیا۔ تقریب میں پاکستانی شعبوں کی نشاندہی بھی کی گئی جن میں افریقی منڈیوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں، تاہم دستیاب اعلان میں کسی مخصوص نئے تجارتی معاہدے، ٹیرف رعایت، سرمایہ کاری رقم یا ملک وار کوٹے کی منظوری نہیں دی گئی۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے افریقہ کی تیزی سے بڑھتی آبادی اور منڈیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان نجی شعبے کے روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مختلف مقررین نے باہمی سرمایہ کاری، کاروباری وفود، نمائشوں اور نجی شعبے کی شراکت کو 15 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچنے کے لیے اہم قرار دیا۔
یہ 15 ارب ڈالر کا عدد ایک مستقبل کا مشترکہ تجارتی ہدف ہے، موجودہ تجارت کا حجم یا کسی ضمانت شدہ معاہدے کی مالیت نہیں۔ اس ہدف کی تکمیل کے لیے عملی پیش رفت میں ملک وار تجارتی منصوبے، نقل و حمل و لاجسٹکس، بینکاری و ادائیگی کے نظام، ویزا سہولت، معیار اور سرٹیفکیشن، اور کاروباری معلومات تک رسائی جیسے مسائل کا حل اہم ہوگا۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے افریقی منڈیوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے “Look Africa” طرز کی حکمت عملی اور تجارتی مشنز پر کام کرتا رہا ہے۔ نئی کونسل کا آغاز اس کوشش کو ایک اور ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ آئندہ اس اقدام کی کامیابی کا اندازہ حقیقی تجارتی حجم، نئی سرمایہ کاری، برآمدی معاہدوں اور مستقل کاروباری رابطوں میں اضافے سے لگایا جا سکے گا۔
