کراچی: پاکستان گیس پورٹ کے چیئرمین اقبال زیڈ احمد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ترسیلی رکاوٹوں، محدود عالمی دستیابی اور بلند قیمتوں نے پاکستان کی مائع قدرتی گیس (LNG) درآمدات کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کو گیس کی فراہمی محدود کرنے اور متبادل ذرائع پر غور کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ دی نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بات بنکاک میں گیس ٹیک 2026 کے موقع پر بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔

اقبال زیڈ احمد کے مطابق پاکستان ماضی میں قطر اور دیگر سپلائرز سے ایک ماہ میں 10 سے 12 LNG کارگو تک درآمد کرتا رہا ہے، لیکن گزشتہ ماہ صرف تین کارگو موصول ہوئے اور موجودہ ماہ کے لیے دو کارگو کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ LNG بجلی کی پیداوار کے لیے پاکستان کا ایک اہم ایندھن ہے، اس لیے رسد میں اتنی بڑی کمی توانائی کے پورے نظام پر اثر ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تازہ LNG خریداری تقریباً 27 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر ہوئی، جسے انہوں نے ملکی معیشت کے لیے ناقابل برداشت سطح قرار دیا۔ ان کے مطابق بلند قیمت اور محدود دستیابی دونوں عوامل نے درآمدی کارگو کی تعداد کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اور تشخیص پاکستان گیس پورٹ کے چیئرمین کے بیان پر مبنی ہیں؛ انہیں کسی الگ سرکاری گیس راشننگ نوٹیفکیشن کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔

اقبال زیڈ احمد نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت اور نجی شعبہ LNG کے متبادل توانائی ذرائع اور نئی سپلائی شراکت داریوں پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے مغربی منڈیوں، خصوصاً امریکی LNG سپلائرز کے ساتھ طویل مدتی تعاون کو ایک ممکنہ راستہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کی رسد پر زیادہ انحصار نے موجودہ بحران کے دوران پاکستان کی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔

گیس پورٹ چیئرمین نے توقع ظاہر کی کہ عالمی LNG مارکیٹ کی صورتحال سال کے اختتام کے قریب کچھ حد تک مستحکم ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ انفراسٹرکچر کو نقصان اور کارگو کی محدود دستیابی کے باعث قیمتوں یا سپلائی میں فوری معمول پر واپسی کی ضمانت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلند درآمدی لاگت پاکستان کے لیے پہلے ہی ایک بڑا معاشی دباؤ ہے اور اگر ہرمز سے متعلق رکاوٹیں برقرار رہیں تو توانائی کے متبادل انتظامات کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔