اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جعلی، فرضی یا نام نہاد ’فلائنگ‘ سیلز ٹیکس انوائسز کے خلاف کارروائی سخت کرتے ہوئے ایسے رجسٹرڈ افراد کے نام اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر عوامی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے خلاف نوٹس، سماعت اور قانونی فیصلے کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے ایسی ٹرانزیکشن کی انوائس جاری کی جس کے پیچھے اشیا یا خدمات کی حقیقی سپلائی موجود نہیں تھی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو جاری ہدایات میں نئی پینلٹی شق نمبر 29 کا حوالہ دیا ہے۔ اس کے تحت اگر قانونی کارروائی کے بعد کسی رجسٹرڈ شخص کی جانب سے سیمیولیٹڈ یا فرضی ٹرانزیکشن کی ٹیکس انوائس جاری کرنا ثابت ہو تو اس پر فرضی انوائس کی مجموعی مالیت، سیلز ٹیکس سمیت، کے مساوی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ متعلقہ شخص کا نام اور رجسٹریشن نمبر ایف بی آر کے عوامی طور پر قابل رسائی ’Simulated Invoice Issuers Register‘ میں شامل ہوگا۔
نئی پالیسی کا اثر صرف انوائس جاری کرنے والے تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر کوئی رجسٹرڈ خریدار ایسے شخص کی انوائس پر ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کلیم کرے جو مذکورہ رجسٹر میں شامل ہو چکا ہو تو فہرست میں شمولیت کی تاریخ سے متعلق انوائسز پر لیا گیا ان پٹ ٹیکس خودکار طور پر واپس یا ناقابل قبول قرار دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد سپلائی چین میں فرضی خرید و فروخت کے ذریعے ٹیکس کریڈٹ بنانے کے عمل کو روکنا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق کسی نام کو رجسٹر سے ہٹانے کے لیے محض درخواست کافی نہیں ہوگی۔ متعلقہ شخص کو عائد شدہ جرمانہ اور ڈیفالٹ سرچارج مکمل ادا کرنا ہوگا اور قابل اطمینان طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے متعلقہ قانونی تقاضوں کی تعمیل کر لی ہے۔ اس طرح رجسٹر کو محض انتباہی فہرست کے بجائے تعمیل سے منسلک انفورسمنٹ آلہ بنایا گیا ہے۔
نئی شق نمبر 30 کے تحت اگر ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام میں کسی ٹیکس مدت کے دوران خریدار کا کلیم کردہ ان پٹ ٹیکس سپلائر کے اسی یا قریب کی مدت کے اعلان کردہ آؤٹ پٹ ٹیکس سے میچ نہ کرے اور نوٹس و سماعت کے بعد فرق کی تصدیق ہو جائے تو متعلقہ شخص پر غیر مطابقت رکھنے والے ان پٹ ٹیکس کے 20 فیصد کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ناقابل قبول کریڈٹ واپس ہوگا اور قانون کے تحت ڈیفالٹ سرچارج بھی قابل ادائیگی ہوگا۔
اسی سلسلے میں شق نمبر 31 ایسے رجسٹرڈ شخص کے لیے الگ سزا رکھتی ہے جو عوامی رجسٹر میں شامل کسی انوائس جاری کنندہ کی انوائس پر لیا گیا ان پٹ ٹیکس 60 دن کے اندر ناقابل قبول کریڈٹ کے طور پر واپس نہ کرے۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے کاروباری سپلائی چین میں درست اور حقیقی ڈیکلریشن کی حوصلہ افزائی ہوگی اور مصنوعی ٹیکس کریڈٹ بنانا مشکل ہوگا۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی کاروبار کا نام محض شبہے یا ابتدائی الزام پر عوامی فہرست میں ڈالنے کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا؛ رپورٹ شدہ قانونی فریم ورک میں پہلے نوٹس، متعلقہ کارروائی اور adjudication کے بعد فرضی انوائس کا اجرا ثابت ہونا شرط ہے۔ اسی لیے ہر معاملے میں الزام، قانونی فیصلہ اور حتمی سزا کو الگ مراحل کے طور پر دیکھا جائے گا۔
