اسلام آباد: ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک (HBL MfB) اور پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے اپنی کلائمیٹ اسمارٹ ایگری فنانسنگ اسکیم کو پائلٹ مرحلے سے بڑھا کر پنجاب بھر کے کسانوں تک توسیع دینے کا اعلان کیا ہے۔ شراکت داری کا مقصد زرعی قرضوں کے فیصلوں میں سیٹلائٹ ڈیٹا، ریموٹ سینسنگ، فصل کی نگرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی خطرے کے تجزیے کو زیادہ بڑے پیمانے پر استعمال کرنا ہے۔
اعلان کے مطابق سپارکو کی سیٹلائٹ اور ریموٹ سینسنگ صلاحیت کو ایچ بی ایل مائیکروفنانس کے فیلڈ نیٹ ورک اور زرعی فنانسنگ تجربے کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ بینک اس ڈیٹا کو زمین کے استعمال، فصل کی موجودہ حالت اور موسمی خطرات کو بہتر سمجھنے کے لیے استعمال کر سکے گا۔ مقصد یہ ہے کہ قرض کی منظوری، نگرانی اور زرعی پورٹ فولیو کے خطرے کا جائزہ صرف روایتی زمینی معلومات کے بجائے زیادہ جامع ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جا سکے۔
ایچ بی ایل مائیکروفنانس کے صدر اور چیف ایگزیکٹو عامر خان نے کہا کہ پاکستانی کسان غیر یقینی موسم، پانی کے دباؤ اور موسمیاتی خطرات کے براہ راست اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سپارکو کے ساتھ تعاون سے سیٹلائٹ انٹیلی جنس کو زرعی فنانسنگ میں شامل کرکے کسانوں کی زمینی صورتحال کے بارے میں بہتر معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اور قرض کے فیصلے زیادہ بروقت اور حقائق کے قریب بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ ادارے کا بیان ہے؛ پروگرام کے نتیجے میں قرضوں کی واپسی یا فصل کی پیداوار میں کسی مخصوص شرح سے بہتری کی ضمانت نہیں دی گئی۔
سپارکو کے رکن اسپیس ایپلی کیشن اینڈ ریسرچ ونگ ظفر اقبال نے بتایا کہ ادارے کے پاس زرعی نگرانی سے متعلق تقریباً 35 سال کے مکانی ڈیٹا اور تجزیاتی ریکارڈ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ ماڈلز کے ساتھ Geo-AI پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے جو فصل، زمین اور موسمی خطرات کے بارے میں تجزیہ فراہم کرتا ہے۔ سپارکو کے Space4Climate اقدام کے ذریعے سیلاب، خشک سالی اور ژالہ باری جیسے خطرات کے امکانات کا اندازہ بھی زرعی قرض کے عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
دونوں اداروں کے مطابق یہ نظام قرض جاری ہونے سے پہلے فارم سطح کے خطرے کے جائزے کے ساتھ قرض کے بعد فصل اور حالات کی نگرانی میں بھی مدد دے گا۔ سپارکو زرعی معلومات کو Space4Climate پورٹل کے ذریعے وسیع تر عوامی رسائی دینے کا بھی ارادہ رکھتا ہے، تاکہ کسان، مالی ادارے اور پالیسی ساز موسمی اور زرعی خطرات کے بارے میں بہتر معلومات استعمال کر سکیں۔
تازہ پیش رفت کا بنیادی نکتہ پروگرام کی پنجاب بھر میں توسیع ہے، نہ کہ کسی نئے سرکاری سبسڈی پیکیج یا کسانوں کے لیے خودکار قرض منظوری کا اعلان۔ عملی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ سیٹلائٹ تجزیہ، بینک کی فیلڈ جانچ، کسان کی مالی اہلیت اور مقامی زرعی حالات کو قرض کے فیصلوں میں کس طرح یکجا کیا جاتا ہے۔ پھر بھی یہ منصوبہ پاکستان میں خلائی ڈیٹا کو زرعی فنانسنگ کے عملی استعمال سے جوڑنے کی ایک نمایاں مثال ہے۔

