اسلام آباد: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) اور چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن (SAMR) نے دوطرفہ مسابقتی تعاون کے موجودہ فریم ورک کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے تکنیکی تعاون، تربیت اور معلوماتی تبادلے کے نئے شعبوں پر گفتگو کی ہے۔ یہ پیش رفت سی سی پی کے چیئرمین فرید احمد تارڑ اور SAMR کے نائب وزیر شو وی کے درمیان چین کے شہر شی آن میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی، جہاں پاکستانی وفد 2026 نیشنل فیئر کمپیٹیشن کانفرنس میں شریک تھا۔

ملاقات میں کارٹل کی نشاندہی، انضمام و حصول کے معاملات کی جانچ، ڈیجیٹل مارکیٹس، مارکیٹ انٹیلی جنس، اقتصادی تجزیے، مسابقتی آگاہی، افسران کے تبادلے اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے امکانات زیر بحث آئے۔ دونوں اداروں کے درمیان اینٹی مونوپولی تعاون کی مفاہمتی یادداشت جون 2024 میں دستخط ہوئی تھی۔ تازہ رابطے کا مقصد اسی معاہدے کو صرف ادارہ جاتی فریم ورک تک محدود رکھنے کے بجائے باقاعدہ تربیتی، تحقیقی اور نفاذی تعاون میں تبدیل کرنا ہے۔

سی سی پی کے مطابق پاکستان چین کے مسابقتی قوانین کے نفاذ اور بڑے و پیچیدہ بازاروں کی نگرانی کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت، الگورتھمز اور ڈیٹا پر مبنی کاروباری ماڈلز نے روایتی مسابقتی نگرانی کے لیے نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ اسی لیے دونوں ریگولیٹرز نے ڈیجیٹل مارکیٹس اور ڈیٹا پر مبنی انفورسمنٹ کو آئندہ تعاون کے اہم شعبوں میں شمار کیا۔

2024 کی مفاہمتی یادداشت سی سی پی کی 16 سالہ تاریخ میں کسی غیر ملکی مسابقتی ادارے کے ساتھ پہلی بین الاقوامی ایم او یو تھی۔ اس میں دوطرفہ اجلاس، تربیتی پروگرام، ورکشاپس، مشترکہ تحقیق اور معلومات کے تبادلے کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا گیا تھا۔ موجودہ ملاقات میں اس فریم ورک کو مسلسل اور قابلِ عمل تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

فرید احمد تارڑ نے کہا کہ مضبوط ادارہ جاتی رابطہ پاکستان میں کارٹل اور مارکیٹ کی بے ضابطگیوں کی شناخت، مرجر تجزیے اور جدید ڈیجیٹل کاروباری ماڈلز سے متعلق ریگولیٹری صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم تازہ ملاقات میں کسی مخصوص کمپنی، کارٹل یا مرجر کے خلاف مشترکہ کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس مرحلے پر پیش رفت تکنیکی تعاون، علم کے تبادلے اور موجودہ ایم او یو کے عملی نفاذ سے متعلق ہے۔

پاکستان اور چین کے بڑھتے تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کے تناظر میں مسابقتی قوانین کا مؤثر نفاذ کاروباری ماحول کی پیش گوئی پذیری اور منصفانہ مارکیٹ تک رسائی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان آئندہ تربیت، ماہرین کے تبادلے یا مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے آنے پر اس تعاون کے عملی نتائج زیادہ واضح ہوں گے۔