کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جنوری سے جون 2026 کی بینکاری شعبے کی ششماہی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شعبے کی مجموعی مالی مضبوطی برقرار رہی اور سال کی دوسری ششماہی میں قرضوں کی طلب بڑھنے کا امکان ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق نسبتاً قابو میں مہنگائی، شرح مبادلہ میں استحکام اور معاشی بحالی سے کریڈٹ ڈیمانڈ کو سہارا مل سکتا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال عالمی اجناس اور ملکی معاشی منظرنامے کے لیے اہم منفی خطرہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق H1CY26 میں بینکاری شعبے کی بیلنس شیٹ 9.1 فیصد بڑھی، جس میں بنیادی کردار سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کا رہا۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے قرضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ چھ ماہ کے دوران بینکوں نے 3,673 ارب روپے کے اضافی ڈپازٹس حاصل کیے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے طویل مدتی فنانسنگ میں بھی بہتری جاری رہی اور سرکاری سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ پروگرام کی وجہ سے رہن قرضوں میں مزید پیش رفت دیکھی گئی۔
مرکزی بینک نے غیر ریٹڈ بڑے نجی شعبے کے قرض لینے والوں کے لیے مجموعی ایکسپوژر کی حد 3 ارب روپے سے بڑھا کر 10 ارب روپے کیے جانے اور موسمی کاروباری طلب کو دوسری ششماہی میں بینک ایڈوانسز بڑھانے والے عوامل میں شمار کیا ہے۔ یہ توقع معاشی حالات اور قرض لینے والوں کی طلب سے مشروط ہے؛ اسے کسی مخصوص مقدار کے لازمی قرض اجرا کی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ میں اثاثوں کے معیار کے اشاریوں میں بھی بہتری بتائی گئی۔ غیر فعال قرضوں کا مجموعی قرضوں سے تناسب دسمبر 2025 کے 6.1 فیصد سے کم ہو کر جون 2026 میں 5.5 فیصد رہ گیا، جبکہ پروویژننگ کوریج 107.7 فیصد سے بڑھ کر 110.2 فیصد ہو گئی۔ کیپیٹل ایڈیکویسی ریشو 19.6 فیصد رہا، جسے اسٹیٹ بینک نے مضبوط سطح قرار دیا۔ مرکزی بینک کے میکرو اسٹریس ٹیسٹس کے مطابق مجموعی بینکاری نظام، خصوصاً بڑے نظامی بینک، شدید مفروضہ معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں بھی دو سالہ افق پر مناسب لچک رکھتے ہیں۔
اس کے باوجود بینکوں کی منافع آوری کے بعض اشاریے نرم ہوئے۔ جون 2026 میں ریٹرن آن ایسٹس 1.1 فیصد اور ریٹرن آن ایکویٹی 19 فیصد رہا، جو ایک سال پہلے بالترتیب 1.3 فیصد اور 21.3 فیصد تھا۔ اسٹیٹ بینک کا اندازہ ہے کہ کم شرح سود کے ماحول میں بھی قرضوں کے حجم میں ممکنہ اضافے سے بینکوں کی آمدنی کو سہارا مل سکتا ہے۔
رپورٹ نے حکومتی قرض گیری کو بھی اہم عنصر قرار دیا ہے۔ مالی سال 2026-27 میں بینکوں سے سرکاری بجٹ قرض گیری کا تخمینہ 4,012 ارب روپے ہے، جو پچھلے مالی سال کے 2,231 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بینکوں کے اثاثوں میں سرکاری سکیورٹیز کی اہمیت بدستور برقرار رہ سکتی ہے۔ مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک نے نظام کو مستحکم قرار دیا، لیکن تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو مستقبل کی کارکردگی کے لیے نمایاں غیر یقینی عوامل بتایا ہے۔

