اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے 23 جلدوں پر مشتمل ایک احمدیہ اشاعت پر عائد پابندی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے، نے متعدد درخواستوں پر مشترکہ فیصلہ سنایا۔

درخواستیں محمد عبد القدوس اور دیگر افراد کی جانب سے دائر کی گئی تھیں اور ان میں پنجاب حکومت کے ان نوٹیفکیشنز کو چیلنج کیا گیا تھا جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99-اے اور پریس، اخبارات، خبر رساں اداروں اور کتب کی رجسٹریشن سے متعلق 2002 کے قانون کی متعلقہ شقوں کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کے اعتراضات قبول نہیں کیے اور پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا۔

فیصلے میں بنیادی حقوق، بالخصوص مذہبی آزادی، کے دائرہ کار پر بھی بحث کی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ بنیادی حقوق مطلق نہیں ہوتے اور ان کا استعمال آئینی و قانونی حدود اور وسیع تر عوامی مصلحت کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ عدالتی نتیجہ مخصوص مقدمے اور زیر سماعت نوٹیفکیشنز کے قانونی جائزے سے متعلق ہے؛ اسے ہر مذہبی اظہار یا ہر اشاعتی معاملے پر بلا امتیاز عمومی پابندی کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔

عدالتی فیصلے میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ متنازع پابندی علما بورڈ کے فیصلے کی بنیاد پر تھی اور چیف سیکریٹری کے دفتر نے اس فیصلے کو انتظامی طور پر پہنچایا تھا۔ درخواست گزاروں نے حکومتی کارروائی کو چیلنج کیا تھا، تاہم دو رکنی بینچ نے دستیاب قانونی بنیادوں اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد درخواستیں خارج کردیں۔

مقدمہ مذہبی آزادی، اشاعت کی آزادی اور ریاستی ضابطہ کاری کے باہمی تعلق کے باعث حساس نوعیت رکھتا ہے۔ رپورٹنگ میں یہ امتیاز ضروری ہے کہ عدالت نے ایک مخصوص اشاعت پر موجود حکومتی پابندی کے خلاف قانونی چیلنج کا فیصلہ کیا ہے؛ اس خبر میں کسی مذہبی گروہ کے عقائد کی توثیق یا تردید مقصود نہیں۔ فیصلے کے مکمل قانونی اثرات اس کے تحریری متن، متعلقہ قوانین اور ممکنہ آئندہ عدالتی کارروائی کے تناظر میں سمجھے جائیں گے۔

فی الحال دستیاب عدالتی نتیجہ یہ ہے کہ درخواستیں مسترد ہوئیں اور پنجاب حکومت کی عائد کردہ پابندی برقرار رہی۔ اگر متاثرہ فریق کسی مزید دستیاب قانونی راستے سے رجوع کرتا ہے تو اس کی حیثیت الگ عدالتی کارروائی میں طے ہوگی۔ موجودہ فیصلے کو کسی ممکنہ آئندہ اپیل یا نظرثانی کے نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔