پشاور: خیبر پختونخوا کی صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) نے مختلف شعبوں میں 14 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں سڑکوں، کھیل، جنگلات، بورڈ آف ریونیو اور کثیر شعبہ جاتی ترقی کی اسکیمیں شامل ہیں۔ منظور شدہ پروگرام میں ضلع تورغر کے لیے 9 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں صوبائی محکموں کے انتظامی سیکریٹریز، چیف اکانومسٹ اور متعلقہ شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات کے تناظر میں منعقد ہوا، جس میں صوبے کے مختلف علاقوں میں رابطہ سڑکوں اور سفری سہولتوں کو بہتر بنانے سے متعلق اسکیموں پر غور کیا گیا۔

منظور شدہ منصوبوں میں ضلع چترال میں شغور سے شاہ سلیم تک تقریباً 45 کلومیٹر سڑک کی تعمیر شامل ہے۔ اسی طرح تحصیل باڑہ میں 19 کلومیٹر سڑک سے متعلق منصوبہ بھی منظوری پانے والی اسکیموں میں شامل بتایا گیا ہے۔ تورغر کے لیے 9 ارب روپے کے پیکیج کو ضلع میں مختلف ترقیاتی ضروریات سے جوڑا گیا ہے، جبکہ مجموعی فہرست میں انفراسٹرکچر کے علاوہ کھیل اور جنگلات کے شعبے بھی شامل ہیں۔

پی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری منصوبہ بندی کے عمل کا اہم انتظامی مرحلہ ہوتی ہے، تاہم ہر منصوبے کی عملی تعمیر، ٹینڈرنگ، فنڈز کے اجرا اور تکمیل کا شیڈول متعلقہ محکموں کے بعد کے اقدامات سے طے ہوتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں تمام 14 منصوبوں کی الگ الگ لاگت، ٹھیکوں کے اجرا کی تاریخ اور متوقع تکمیل کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے منظوری کو تمام اسکیموں کے فوری آغاز کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔

خیبر پختونخوا کے پہاڑی اور دور دراز اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر اور رابطہ بہتر بنانے کے منصوبے مقامی آبادی کی منڈیوں، تعلیم، صحت اور انتظامی مراکز تک رسائی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تورغر اور چترال جیسے علاقوں میں جغرافیائی حالات تعمیراتی لاگت اور مدت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، جس کے باعث منصوبوں کی بروقت فنڈنگ اور تکنیکی نگرانی اہم ہوگی۔

صوبائی حکومت نے ان منظوریوں کو رابطہ کاری اور سفری سہولت بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ قرار دیا ہے۔ اگلا قابل پیمائش مرحلہ متعلقہ اسکیموں کے فنڈز، پروکیورمنٹ اور زمینی کام کی پیش رفت ہوگا۔ منصوبوں کے حقیقی اثرات کا جائزہ تکمیل کے بعد سڑکوں، خدمات اور مقامی رسائی میں آنے والی تبدیلی سے کیا جاسکے گا۔